اسلام آباد،آباد کے زیر اہتمام تعمیرات کی 3 روزہ نمائش آباد انٹرنیشنل ایکسپواختتام پذیز

اڑھائی ارب روپے کی سرمایہ کاری کے سودے کئے گئے ،ہزاروں طلبا نے ملازمتوں کے حصول کیلئے ااپلائی ،لکی ڈرا سے کئی افراد کو انعامات سے نوازا گیا

اتوار مئی 21:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے ز یر اہتمام پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں تعمیرات کی 3 روزہ نمائش آباد انٹرنیشنل ایکسپواختتام پذیز ہوگیا،جس میں اڑھائی ارب کی سرمایہ کاری کے سودے کئے گئے،ہزاروں طلبا نے ملازمتوں کے حصول کیلئے ااپلائی کیا، لکی ڈرا سے کئی افراد کو انعامات سے نوازا گیا،اتوار کو آباد ایکسپو ختتام پزیر ہوگیا، ایکسپو کے آخری روز ہزاروں افرادنمائش میں امڈ آئے،اس موقع پر اڑھائی ارب کی سرمایہ کاری کے سودے کئے گئے،اس عالمی شو میں 122 کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی نمائشکی،جن میں22 غیر ملکی کمپنیاںتھیجن کا تعلق ترکی،،،چین،،،بنگلہ دیش،،انڈونیشیا،ملائشیا،سائپرس، اٹلی،،،،،ایران اور دیگر ممالک سے تھا۔

(جاری ہے)

نمائش کے دوران نچوں کی دلچسپی اور تفریح کیلئے جھولوں کا اہتمام بھی کیا گیا،نمائش میں شرکت کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ آباد ایکسپو نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، اس طرح کی نمائشوں کو سال میں دو تین مرتبہ ہونا چاہیے،کیونکہ اس نوقع پر مڈل مین کے کردار کی نفی ہوتی ہے اور فروخت کرنے والا اور خریدنے والاہ کے درمیان اعتماد بڑھتا ہے،،اس موقع پر چیئرمین آباعارف جیوا اور سابق چیئرمین آباد محسن شیخانی نے صحافیوں سیگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آباد ایکسپو 2018 کامیابیوںکے اپنے ہی سابقہ ریکارڈ توڑدیئے ہیں۔

نمائش میں بلڈرز ،ڈیولپرز کے علاوہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر،مقامی و غیر ملکی ٹائلز مینوفیکچرنگ کمپنیاں،اسٹیل،سیمنٹ ،ایلومینیم ، سینیٹری ویئرمینوفیکچررز،بلڈنگ فیشنلز،آرکیٹیکٹ اور کنسلٹنٹس کمپنیاں شرکت کی،۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے تناظر میں نمائش کے دوران جاب ایکسپو اور سیمینار کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جن میں پاکستان میں خدمات انجام دینے والی کثیر قومی کمپنیوں کے نمائندے شریکہوئے اور تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے پروفیشنلزسے ان کی سی وی لینے کا ساتھ ساتھ ان پروفیشنلز کو روزگار کے حصول سے متعلق حکمت عملی اورمواقع کے بارے میں آگہیدی گئی،انہوںنے کہا کہ اپنا گھر کے خواہشمند افراد آباد ایکسپو میںمختلف بلڈرز ڈیولپرز،آرکیٹیکس،انجینئرز،مالیاتی اداروں سے روابط قائمہوئے،۔

، پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے، اگر حکومت اس ضمن میںتعمیرات ،رئیل اسٹیٹ سے متعلق مربوط پالیس کا اعلان کریاور ون ونڈو سہولتیں فراہم کرے، تو آباد کے پاس گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت اور ریسورزہیں ،آباد حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ تعمیرات سے وابستہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے تاہم حکومت کی کچھ ناقص پالیسیاں اور قوانین رکاوٹ ہیں۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جائیدادوں کی قدر کی تعین کے تہرے نظام کو ختم کرکے آباد کی مشاورت سے ایک شفاف نظام لایا جائی ، لو کاسٹ سکیم کے تحت 21 لاکھ میں 5 مرلہ گھر دیں گے،اس سلسلے میں زمین حاصل کر لی گئی ہے، ہمارے ہاں انفراسٹرکچر کی بہت کمی ہیادرے سہولیات کی بجائے عوام. کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ، موجودہ حکومت کے دور میں انفراسٹرکچر پر.توجہ نہیں دی گئی ہے، حکومت کی توجہ صرف ٹیکس اکٹھاکرنے پر مرکوز ہے، , 5-18/--444