چھوٹےسےآپریشن سےپیٹ والی بلٹ نکال دی جائیگی،زعیم قادری

احسن اقبال ہوش وحواس اورحوصلے میں ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی سروسز ہسپتال میں موجود ہیں۔میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 21:45

چھوٹےسےآپریشن سےپیٹ والی بلٹ نکال دی جائیگی،زعیم قادری
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے رہنماء زعیم حسین قادری نے کہا ہے کہ ایک چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے پیٹ والی بلٹ نکال دی جائیگی،،احسن اقبال ہوش وحواس اورحوصلے میں ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی سروسز ہسپتال میں موجود ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگی رہنماء زعیم حسین قادری نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اللہ کے فضل وکرم اور قوم کی دعاؤں سے وہ ٹھیک ہیں،ان کی حالت خطرے سے باہر ہے،وہ ہوش وحواس میں ہیں اور حوصلے میں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ احسن اقبال کوایک گولی لگی ،جوکہ ان کے بازو میں لگ کرپیٹ کے دائیں حصے میں چلی گئی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا علاج شروع کردیا ہے۔ایک چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے ان بلٹ نکال دی جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ملزم کوگرفتار کرلیا ہے تاہم تفتیش مکمل ہونے تک کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی سروسز ہسپتال میں موجود ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ احسن اقبال کوسروسز ہسپتال میں سرجیکل ایمرجنسی یونٹ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال شکرگڑھ کی تحصیل کنجرورمیں عوامی جلسے سے خطاب کے بعدواپس جارہے تھے کہ ان پرنامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی۔حملے کے فوری بعد احسن اقبال کے کزن عمران نے بتایا کہ احسن اقبال کے بازو پرگولی لگی ہے۔جس سے احسن اقبال شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

تاہم احسن اقبال کوہسپتال منتقل کیا گیااور احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔اور خیریت سے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق ملزم نے احسن اقبال پردو فائر کیے جس میں ایک گولی احسن اقبال کے دائیں بازور پرلگی ہے۔۔پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے،اور جائے وقوعہ کامعائنہ کیاکہ فائرنگ کس طرف سے کی گئی ہے۔ملزمان کہاں سے آئے اور کتنے افراد تھے ۔

تاہم اسی اثناں میں جلسے کے شرکاء نے ملزم کوپکڑ کرپولیس کے حوالے کردیا۔شرکاء نے ملزم کوماراپیٹا بھی تھا۔دوسری جانب وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پرحملہ کرنے والے کی عمر20سے 22سال ہے۔۔حملہ آور کوگرفتار کرلیا گیا ہے، احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔۔احسن اقبال کے بلٹ دائیں کندھے کے قریب لگا۔ڈی پی اوناروال عمران کشور کاکہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔

ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی،انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ڈی پی اونے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔ ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی۔۔پولیس کا کہنا ہے کہ عابد نامی شخص ہی اصل ملزم ہے۔جس نے احسن اقبال پرفائرنگ کی۔ عابد نے جب فائرنگ کی تولوگوں نے موقع پرہی اس نوجوان کوپکڑ لیااور مارنا شروع کردیا۔

جس کے بعد لوگوں نے ملزم کوپولیس کے حوالے کردیا۔ملزم سے 30بور کا پستول برآمد کرلیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزم عابد وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے خطاب کے وقت فرنٹ لائن میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔سفید رنگ کے شلوار قمیض میں میں ملبوس تھا۔ملزم عابدویرم گاؤں کا رہائشی ہے۔۔پولیس حکام کے مطابق ملزم نے پولیس کواپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی۔

گولی چلانے کا فیصلہ ذاتی تھا۔۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کولاہور منتقل کرنے کیلئے اپنا ہیلی کاپٹر ناروال بھجوا دیا ہے،وزیراعلیٰ شہبازشریف نے واقعے کی آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ بھی طلب کرلی،وزیراعلیٰ نے احسن اقبال کی صحتیابی کی دعا بھی کی۔قائد ن لیگ نوازشریف نے احسن اقبال سے ٹیلفونک رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔۔نوازشریف نے احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو سمیت سیاسی رہنماؤں نے احسن اقبال پرحملے کی شدید مذمت کی ہے۔