ْکوئٹہ ،پاکستان کی سلامتی فقط عین کی بالادستی اور خود مختار پارلیمنٹ ہے،محمود خان اچکزئی

پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے ہم نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے،ہم کو طعنے دینے والے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے الزام تراشی کر رہے ہیں، ملک میں جمہوریت مضبوط نہ ہوئی تو پھر اس کی تباہی وبربادی ہو گی،چیئرمین پشتونخواملی عوامی پارٹی

اتوار مئی 21:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی فقط عین کی بالادستی اور خود مختار پارلیمنٹ ہے اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے ہم نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے ہم کو طعنے دینے والے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے الزام تراشی کر رہے ہیں اگر ملک میں جمہوریت مضبوط نہ ہوئی تو پھر اس کی تباہی وبربادی ہو گی اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ آئین وقانون کی بالادستی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردا رادا کرنا ہو گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی عہدیداروں سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ جب ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے خلاف سازشیں ہونگے تو ہم جمہوریت کی بالادستی اور آئین وقانون کی مضبوطی کے لئے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرینگے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ ملک میں جمہوری نظام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے وہ ایسی غلطی نہ کرے جن سے ان کا نقصان ہوں اب بھی وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بالادستی کے لئے اپنا کردارا دا کرے عام انتخابات وقت پر ہونگے تو جمہوریت مضبوط ہو گا عام انتخابات کو ڈی ریل کرنے والے کبھی بھی جمہوریت کے خیر خواہ نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس کو وقت سے پہلے سمجھ لو ڈرو اس دن سے جب پشتون خون کا بدلہ لینے کے لئے بندوق اٹھائے گی بدبخت مت بنو پشتونوں کو برباد کرنے کی کوشش سکند ر اعظم نے بھی کی تھی پھر کیا ہوا اس پاگل پن کو چوڑو یہاں بنگالیوں کی نسل کشی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی پھر کیا ہوا 1947 سے لے کر آج تک کوئی ایک اچھا کام بتا دیں تو جو آپ نے پشتونوں کیساتھ کیا ہوں وزیرستان اور سوات کو برباد کیا گیا اب کچھ لوگ آپ کے کئے ہوئے مظالم کو منظر عام پر لا رہے ہیں پاکستان کی سلامتی فقط آئین کی بالادستی اور خود مختار پارلیمنٹ میں ہے اور اس کو وقت سے پہلے سمجھ لوں ہزاروں پشتونوں کو مارا گیا لاپتہ کیا مگرکسی نے بھی اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا اب جب لوگ اپنے حقوق کے لئے اٹھے ہے تو ان کو مختلف القابات سے نوازا جا تا ہے پشتونوں کو برباد کرنے کی کوشش سکندر اعظم نے بھی کی تھی پھر کیا ہوا اس پا گل پن کو چھوڑو یہاں تو بنگالیوں کی نسل کرنے کی بات کی تھی تو پھر کیا ہوا زضمیر فروش اور داغدار کا محب وطن ہونا اور باضمیر اور دو ٹو ک بات کرنے والوں کو غدار کہنا ملک کے خطرناک ہے جب آپ خود میری نظریات سیاسی فلسفے اور افکار کے پروقار ہے تو نوازشریف پر کیوں اعتراض ہے ۔