پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاونت پروگرام کے تحت 200ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط ،ابوظہبی فنڈ برائے ترقی کی طرف سے فنڈ فراہم کئے جائیں گے،امدادی پروگرام کے 51 سال مکمل ہونے پر متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کو یادگاری شیلڈ پیش کی

اتوار مئی 21:50

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) کے آغاز میں 200ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کی ہدایات پر عملدرآمد کے لئے کیا گیا،معاہد ہ پاکستان کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے پروگرام کا حصہ ہے جو ولی عہد شہزادہ اور یو اے ای کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید النہیان نے شروع کیا،نائب وزیراعظم وزیر برائے صدارتی امور شیخ منصوربن زید النہیان اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا پاکستان اسسٹنس پروگرام پاکستان کے عوام کی انسانی بنیادوں پر اعانت اور بہتر مستقبل کے لئے ترقیاتی اقدامات کے مقصد سے شروع کیا گیا ہے۔ معاہدے کے لئے ابوظہبی فنڈ برائے ترقی کی طرف سے فنڈ فراہم کئے جائیں گے جس پر دستخط چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر عبید الزابی کی موجودگی میں پی اے بی کے ڈائریکٹر عبداللہ الخلیفہ الغافلی اور پاک فوج کے کمانڈنٹ ایم سی ای میجر جنرل انوار الحق چوہدری نے یہاں اسلام آباد میں کیے۔

(جاری ہے)

دستخطی تقریب کے آخر میں متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے چیف آف آرمی سٹاف کو 1967ء میں مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کی طرف سے شروع کئے گئے امدادی پروگرام کے 51 سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری شیلڈ پیش کی۔ پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبیدالزابی نے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے تیسرے مرحلے کا آغاز پاکستان میں انسانی بنیاد پر شروع کئے گئے منصوبے کے عزم کا اعادہ ہے جو متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام نے پاکستان کی حکومت اور عوام سے کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسانی بنیادوں اور ترقیاتی کوششوں کے لئے متحدہ عرب امارات کی امداد ملک کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ خلیفہ بن زیدالنہیان اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات باہمی محبت اور احترام کے رشتوں پر استوار ہیں اور دونوں ملک اس کے ثمرات سے استفادہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین دوسرے بڑے ستون کی بنیاد مختلف علاقائی اور عالمی اہمیت کے ایشوز پر خیالات میں ہم آہنگی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات خطہ میں امن اور استحکام کے لئے درکار تحمل اور برداشت کے مشترکہ اصولوں پر کاربند ہیں اور انسانی بنیادوں کا پہلو دوطرفہ تعلقات کا تیسرا ستون ہے جو متحدہ عرب امارات کی پالیسی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں متحدہ عرب امارات نے سکول، کالجز، ہسپتال، کلینک، فراہمی آب کے منصوبوں، شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر کے منصوبے بنائے ہیں جو انسانی بنیادوں پر امداد کے اس پروگرام کا مظہر ہیں۔ سفیر نے کہا کہ ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زیدالنہیان نے پاکستان سے پولیو کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تاریخی اور اہمیت کے حامل تعلقات کا ایک مظہر متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں جو متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین سیاسی، معاشی، تجارتی، دفاعی، سیکیورٹی اور ثقافتی شعبوں میں گرانقدر تعلقات قائم ہیں اور متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے غذائی تحفظ اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔

پروگرام ڈائریکٹر عبداللہ الخلیفہ الغافلی نے کہا کہ متحدہ عرب اارات کے صدر اور ولی عہد شہزادہ کی ہدایات کی روشنی میں اس معاہدہ پر دستخط کئے جا رہے ہیں جس کے ذریعے پاکستان کے عوام کو انسانی اور ترقیاتی معاونت فراہم کی جائے گی جس سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالا جائے گا۔ یہ معاہدہ سابقہ مراحل کا حصہ ہے جس کے تحت 165ترقیاتی اور انسانی بنیادوں کے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن پر لاگت کا تخمینہ 365ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعاون اور انسانی بنیادوں کے اقدامات دنیا بھر کے ضرورتمند افراد کی امداد اور ان کی ترقی کے اقدامات کے مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کے اس عزم کی تکمیل ہے جس کا آغاز انہوں نے دنیا بھر کی غریب انسانیت کی مدد کے لئے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مرحوم شیخ زیدبن سلطان النہیان کے اس اقدام کے 15برس کی تکمیل کو مناتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں، پاکستان میں جس کا آغاز 1967ء میں کیا گیا تھا۔

انہوں نے بلوچستان،، خیبرپختونخوا اور فاٹا کے علاقوں میں اس تیسرے مرحلہ کے تحت سرگرمیاں شروع کی جائیں گی جن میں صحت، تعلیم،، فراہمی آب، زراعت سمیت 40بنیادی سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں ن ے کہا کہ ترجیحات اور منصوبوں کی نشاندہی کے لئے ہر علاقہ میں فیلڈ سروے کیا جائے گا۔ انجینئرنگ اور تکنیکی ٹیموں نے پہلے ہی اپنا کام شروع کردیا ہے۔