اللہ بزرگ وبرتر بہت مہربان ہے،خیریت سے ہوں،احسن اقبال

تمام دوستوں اور خیرخواہوں سے گزارش ہے کہ وہ خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار مئی 22:16

اللہ بزرگ وبرتر بہت مہربان ہے،خیریت سے ہوں،احسن اقبال
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06مئی 2018ء) : وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں،تمام دوستوں اور خیرخواہوں سے گزارش ہے کہ وہ خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔انہوں نے قاتلانہ حملے کے بعد ہسپتال سے سوشل میڈیا پراپنے پہلے جاری کردہ بیان میں کہاکہ اللہ بزرگ وبرتر بہت مہربان ہے۔کہ وہ خیریت سے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام دوستوں اور خیرخواہوں سے گزارش ہے کہ وہ خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال شکرگڑھ کی تحصیل کنجرورمیں عوامی جلسے سے خطاب کے بعدواپس جارہے تھے کہ ان پرنامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی۔حملے کے فوری بعد احسن اقبال کے کزن عمران نے بتایا کہ احسن اقبال کے بازو پرگولی لگی ہے۔جس سے احسن اقبال شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم احسن اقبال کوہسپتال منتقل کیا گیااور احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اور خیریت سے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق ملزم نے احسن اقبال پردو فائر کیے جس میں ایک گولی احسن اقبال کے دائیں بازور پرلگی ہے۔۔پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے،اور جائے وقوعہ کامعائنہ کیاکہ فائرنگ کس طرف سے کی گئی ہے۔ملزمان کہاں سے آئے اور کتنے افراد تھے ۔تاہم اسی اثناں میں جلسے کے شرکاء نے ملزم کوپکڑ کرپولیس کے حوالے کردیا۔

شرکاء نے ملزم کوماراپیٹا بھی تھا۔دوسری جانب وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پرحملہ کرنے والے کی عمر20سے 22سال ہے۔۔حملہ آور کوگرفتار کرلیا گیا ہے، احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔۔احسن اقبال کے بلٹ دائیں کندھے کے قریب لگا۔ڈی پی اوناروال عمران کشور کاکہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔

ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی،انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ڈی پی اونے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔ ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی۔۔پولیس کا کہنا ہے کہ عابد نامی شخص ہی اصل ملزم ہے۔جس نے احسن اقبال پرفائرنگ کی۔ عابد نے جب فائرنگ کی تولوگوں نے موقع پرہی اس نوجوان کوپکڑ لیااور مارنا شروع کردیا۔

جس کے بعد لوگوں نے ملزم کوپولیس کے حوالے کردیا۔ملزم سے 30بور کا پستول برآمد کرلیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزم عابد وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے خطاب کے وقت فرنٹ لائن میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔سفید رنگ کے شلوار قمیض میں میں ملبوس تھا۔ملزم عابدویرم گاؤں کا رہائشی ہے۔ملزم عابد کے 2بھائی ہیں والد کا نام محمد حسین ہے۔ملزم عابد حسین پرچون کی دکان پرکام کرتا ہے۔

ملزم کی تاریخ پیدائش 13مئی 1995ء ہے۔ملزم عابددبئی بھی جاچکا ہے۔دوسری جانب ڈی سی ناروال کا کہنا ہے کہ ملزم عابد سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم پرپہلے بھی ایک ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ملزم کے خلاف کس تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔۔پولیس حکام کے مطابق ملزم نے پولیس کواپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی۔

گولی چلانے کا فیصلہ ذاتی تھا۔۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کولاہور منتقل کرنے کیلئے اپنا ہیلی کاپٹر ناروال بھجوا دیا ہے،وزیراعلیٰ شہبازشریف نے واقعے کی آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ بھی طلب کرلی،وزیراعلیٰ نے احسن اقبال کی صحتیابی کی دعا بھی کی۔قائد ن لیگ نوازشریف نے احسن اقبال سے ٹیلفونک رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔۔نوازشریف نے احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو سمیت سیاسی رہنماؤں نے احسن اقبال پرحملے کی شدید مذمت کی ہے۔