وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے‘ احسن اقبال کے بائیں بازوں پر گولی لگی ہے، انکی حالت اب خطرے سے باہر ہے، انھیں ڈاکٹروں کے مشورے سے لاہور منتقل کردیا گیا ہے‘آج ہمیں یہ سوچنا پڑیگا کہ ہم ہر چیز پر سیاست اور تنقید نہ کریں ‘ پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق ہوتا ہے ‘بطورسیاستدان‘ بطورسول سوسائٹی ‘بطورمیڈیا ہم سب کو کچھ اصول طے کرنا ہونگے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی بے مثال قربانیاں شامل ہیں‘ٹف ٹارگٹ ‘ہاٹ ٹارگٹ اورڈائریکٹ ٹارگٹ اشخاص کی سکیورٹی ان کا حق ہے ‘

وفاقی وزیر اطلاعات،نشریات،قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب کی مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو

اتوار مئی 23:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات،،نشریات،قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے‘ احسن اقبال کے بائیں بازوں پر گولی لگی ہے انکی حالت اب خطرے سے باہر ہے انھیں ڈاکٹروں کے مشورے سے لاہور منتقل کردیا گیا ہے‘آج ہمیں یہ سوچنا پڑیگا کہ ہم ہر چیز پر سیاست اور تنقید نہ کریں ‘ پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق ہوتا ہے ‘بطورسیاستدان‘ بطورسول سوسائٹی ‘بطورمیڈیا ہم سب کو کچھ اصول طے کرنا ہونگے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی بے مثال قربانیاں شامل ہیں‘ٹف ٹارگٹ ‘ہاٹ ٹارگٹ اورڈائریکٹ ٹارگٹ اشخاص کی سکیورٹی ان کا حق ہے۔

(جاری ہے)

وہ اتوار کو وزیر داخلہ پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کر رہی تھیں۔وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس وقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں ‘اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 21,22 سال کے نوجوان نے اس وقت فائرنگ کی جب وزیر داخلہ احسن اقبال کرسچین کمیونٹی کے ایک پروگرام سے باہر نکل رہے تھے‘اللہ تعالی ہمیشہ انھیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں یہ سوچنا پڑیگا کہ ہم ہر چیز پر سیاست نہ کریں ‘بطورسیاستدان‘ بطورسول سوسائٹی ‘بطورمیڈیا ہم سب کو کچھ اصول طے کرنا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ چار روز قبل ایک ٹی وی چینل پر خبر نشر ہورہی تھی جس میں محمد نواز شریف کی گاڑیوں کو بار بار دکھایا جارہا تھا کہ پروٹوکول دیکھیں ‘پروٹوکول اور سکیورٹی میں فرق ہوتا ہے۔موجودہ حکومت نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے ‘گذشتہ حکومت نے بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہوگی لیکن موجودہ حکومت کی کارروائی سب سے موثر رہی ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج‘قانون نافذ کرنے والے اداروں اورعوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اب ہمیں کچھ چیزوں کے حوالے سے بالاتر ہو کرسوچنا ہوگا ‘کچھ چیزوں پر سیاست اور تنقید نہیں کرنی چاہیے ‘بطور معاشرہ ہمیں اس کو اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں کہ فائرنگ کرنے والا کون ہے اور کیوں فائرنگ کی ہے ‘اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ احسن اقبال کی صحت صحت یابی کے لئے دعا گو ہوں‘احسن اقبال کی عوام کے لئے خدمات بہت ہیں ‘ ملک کو ترقی اور عوام کوخوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے پر عوام ان کے ساتھ خاص محبت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو مخالفین کہتے ہیں کہ سکیورٹی واپس لی جائے اورکیوں پروٹوکول دیا جارہا ہے‘ان چیزوں پر سیاست خطرناک ہے ‘تمام لوگوں کے سوچنے کا مقام ہے ان چیزوں پر سیاست نہ کریں ‘ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں دہشت گردی کا کامیابی سے خاتمہ کیا جارہا ہے ‘مخالفین کارکردگی پر سیاست کریں، ہر بات پر سیاست نہ کریں،ملک کے حالات دیکھیں جہاں ایک طرف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد ہورہا ہے وہاں ہمیں ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ‘کراچی آپریشن کیا‘سیاست کیئے بغیر ملک کے مفاد میں مضبوط موقف اپنایا۔