سی آئی اے کی نامزد سربراہ نے معذرت کے بعد منصب سنبھالنے کی حامی بھرلی

پیر مئی 11:10

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سی آئی اے کیلئے نامزد کردہ سربراہ جینا ہسپیل نامزدگی سے دستبردار ہونے کے بارے غور کر رہی ہیں۔ امریکی خبررساں ادارے کے مطابق اس اقدام کی وجہ سی آئی اے میں تحقیقات کے طریق کار میں اٴْن کے متنازعہ کردار کے حوالے سے تشویش بتائی جاتی ہے، جینا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سی آئی اے میں تحقیقات کے دوران واٹر بورڈنگ جیسی نئی ٹیکنیک کے استعمال کی بھر پور حامی رہی ہیں جسے دنیا بھر میں بدترین تشدد قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔

جینا کواٴْن کے تحقیقاتی طریقوں کے استعمال کے بارے میں گفتگو کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس طلب کیا گیا تھا جہاں اٴْن کی اہلکاروں سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔

(جاری ہے)

جینا ہسپیل نے وائٹ ہاؤس کو بتایاکہ وہ بدھ کوسینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہونے والی اٴْن کی نامزدگی کی توثیق کے سلسلے میں متوقع طور پر سخت اور مشکل سماعت کے پیش نظر دستبردار ہونا چاہتی ہیں۔

اس ملاقات کے بعد جینا لینگلے ورجینیا میں موجود اپنے دفتر واپس لوٹ گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قانون سازی کے امور سے متعلق اہلکار مارک شارٹ اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز ملاقات کے فوراً بعد لینگلے میں جینا کے دفتر گئے جہاں اٴْنہوں نے کئی گھنٹے تک جینا سے ملاقات کی اور اٴْن سے اپنا فیصلہ بدلنے پر زور دیا تاہم جینا رضامند نہ ہوئیں۔

جینا نے بعد میں وائٹ ہاؤس کو یقین دہانی کرا دی کہ وہ اپنی نامزدگی واپس نہیں لیں گی۔ جینا ہسپیل ان دنوں سی آئی اے کی قائم مقام ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے کہا ہے کہ جینا نے 3 دہائیوں تک ملک کی خدمت کی ہے اور وہ اس منصب کیلئے انتہائی موزوں اہلکار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جینا کو سی آئی اے کے سربراہ کیلئے نامزد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اہلکار ہوں گی۔ وہ مائک پومپیو کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گی جو اب امریکہ کے وزیر خارجہ ہیں۔