2013ء کے انتخابات میں کس معروف شخصیت نے نواز شریف سے رات کے اندھیرے میں تین ملاقاتیں کیں؟ معروف صحافی کا اہم انکشاف

سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن پر نوازشریف سے تین ملاقاتیں کیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر مئی 11:12

2013ء کے انتخابات میں کس معروف شخصیت نے نواز شریف سے رات کے اندھیرے میں ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔07مئی 2018ء) معروف صحافی چدوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ 2013 ء کے انتخابات میں سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن پر نوازشریف سے تین ملاقاتیں کیں۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2013ءکے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ 2013ء کے انتخابات میں جنرل کیانی نے ایک اور جنرل کو پیغام بھجوایا تھا کہ آپ کا کام ہے کہ آپ لوگوں نے باہر مکمل امن و امان رکھنا ہے۔

چوہدری غلام حسین نے 2013ء کے انتخابات سے متعلق مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو تب ہی کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن پر نوازشریف سے تین ملاقاتیں کیں۔

(جاری ہے)

چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی بات بھی خفیہ نہیں رکھی۔اور میں پہلے بھی یہ بات کئی بار کہہ چکا ہوں۔جب یہ رپورٹ آئی تھی تو میں نے اس وقت ہی کہہ دیا تھا کہ سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن پر رات کے اندھیرے میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے تین ملاقاتیں کی ہیں۔

اور میں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت جو آدمی وہاں چائے پیش کر رہا تھا اس کا کیا نام ہے۔جب چوہدری غلام حسین سے سوال کیا گیا کہ جب 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی تو پھر یہ انتخابات پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کیوں قبول کیے۔جس کا جواب دیتے ہوئے چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان پھر اور کیا کرتا۔۔خود کشی کر لیتا کیا؟۔

عمران خان بھی سیاست کر رہے ہیں۔یاد رہے اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان بھی ایک انٹرویو کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ فوج نے ہمیشہ ہی نواز شریف کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے نواز شریف کی مدد کی ہے ، فوج مسلسل نواز شریف کے ساتھ رہی ہے۔ 1990ء میں ایک غیر سیاسی شخص اور بزنس مین کو جنرل ضیا نے سیاستدان بنا دیا۔ 1990ء میں آئی جی آئی بنوائی ، آئی ایس آئی نے مہران بنک کا پیسہ دلوایا۔

آئی ایس آئی کے ڈی جی کی رپورٹ تھی سپریم کورٹ میں کہ ہم نے پیسے دئے لیکن عدلیہ نے نواز شریف کا دفاع کیا۔ لیکن کوئی کیس ہی نہ سنے، اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا فارغ ہوا ہوتا ، فوج نے 1990ء میں اس کی مدد کی ۔ 1996ء میں بے نظیر کی حکومت گرائی ، اور پھر الیکشن میں فو ج نے نواز شریف کی پھر سے مدد کی۔ 2013ء کے الیکشن میں بھی فوج نے ان کی مدد کی ۔