مقبوضہ کشمیر، سول سیکرٹریٹ کی طرف مارچ اوردھرنے کو روکنے کے لئے سرینگر سمیت وادی کشمیرمیں سخت پابندیاں عائد

پیر مئی 11:52

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں گزشتہ روز شوپیان میں 10نوجوانوں کے قتل کے خلاف سول سیکرٹریٹ کی طرف مارچ اور احتجاجی دھرنے کو روکنے کیلئے سرینگر اوروادی کشمیر کے دیگر علاقوںمیں سخت پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سول سیکرٹریٹ کی طرف مارچ اور دھرنے کی کال سید علی گیلانی،، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے نوجوانوں کی شہادت کے بعد دی ہے۔

سرینگر کے علاقوں رعناواری، خانیار، نوہٹہ، صفاکدل، مہاراج گنج، مائسمہ اور کرالہ کھڈ میں خاص طورپر کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں قتل عام کا سلسلہ ختم ہونے تک سول سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا دیں۔

(جاری ہے)

قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق کو گھروں میں جبکہ محمد یاسین ملک کو تھانے میں نظربند رکھا ہے۔ وادی کشمیر میں تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی نے 7مئی کو ہونے والے تمام امتحانات کو ملتوی کردیاہے جبکہ ریل سروس کو معطل کردیاگیا ہے۔ وادی کشمیر میںجنوبی کشمیر کے تمام اضلاع اور سرینگر اور گاندر بل میںانٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔