اصغرخان کیس کی سماعت :چیف جسٹس نے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کو روسٹرم پر بلالیا

نظرثانی کی درخواستوں کی استدعامسترد،کیس کی سماعت کسی صورت ملتوی نہیں کی جائے گی،جنرل اسد درانی کے وکیل کی استدعا پر سماعت اڑھائی بجے تک ملتوی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 11:57

اصغرخان کیس کی سماعت :چیف جسٹس نے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کو روسٹرم ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 مئی۔2018ء) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے وکیل کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعامسترد کردی۔پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نےنظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کو روسٹرم پر طلب کیا،جہاں اسلم بیگ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں صرف ایک روز قبل اطلاع ملی وہ کیس کی تیاری نہیں کرسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمے کو وقفے کے بعد سنیں گے اس کیس میں التوا نہیں دیا جائےگا۔۔چیف جسٹس نے اس دوران سابق ایئرمارشل اصغر خان مرحوم کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ راجہ صاحب کیس کا خلاصہ آپ نے دینا ہے --آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی بیان حلفی میں یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لیکر بانٹے گئے تھے۔

(جاری ہے)

قبل ازیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ سے کہا اگر آپ کے وکیل نہیں ہیں تو دلائل خود شروع کر دیں۔ ۔کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کہاں ہیں، وہ تشریف لائے ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موجود ہیں، جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل صاحب روسٹرم پر آجائیں۔اس موقع پر جنرل (ر) اسلم بیگ روسٹرم پر آئے اور کہا کہ مجھے صرف ایک روز قبل کیس مقرر ہونے کا بتایا گیا ہے، میں کیس کی تیاری نہیں کرسکا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جنرل صاحب کسی صورت میں کیس کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی، اگر آپ کے وکیل نہیں ہیں تو دلائل خود شروع کردیں۔دوران سماعت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ مناسب ہوگا اس کیس کو اڑھائی بجے سن لیں جس پر عدالت نے سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ 2012میں سپریم کورٹ نے اصغرکیس میں اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اسلم بیگ اور اسد درانی فوج کی بدنامی کا باعث بنے۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں، سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق کیس کا 141 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت ہے۔ صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔

صدر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک گروپ کی حمایت کرے۔ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا۔1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی، انتخابات مقررہ وقت پر اور بلاخوف و خطر ہونے چاہئیں تھے، تفصیلی فیصلے کے مطابق اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔ ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ1990 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہان کے ذریعے نوازشریف سمیت آئی جے آئی میں شامل سیاستدانوں اور صحافیوں میں خفیہ فنڈزسے رقوم تقسیم کیں ۔۔پاک فضائیہ کے سابق سربراہ اور سیاست دان ایئرمارشل (ر) اصغر خان مرحوم نے 1990ءکے انتخابات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے بعض سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کرنے کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا ‘اصغرخان کیس میں نہ صرف نوازشریف اور شہبازشریف کے نام خفیہ فنڈزسے وصول کرنے والوں کے طور پر سامنے آئے بلکہ اس وقت مسلم لیگ نون کے انتخابی اتحاد آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد)میں شامل تمام جماعتوں کے راہنماﺅں سمیت سیاست دانوں اور صحافیوں کے نام بھی منظرعام آئے تھے ۔