احسن اقبال پر حملہ کرنیوالوں کی سازش بے نقاب

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ، ملزم کا تعلق تحریک لبیک سے ہے غیر ملکی خبر ایجنسی کی ملزم عابد سے متعلق رپورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 12:20

احسن اقبال پر حملہ کرنیوالوں کی سازش بے نقاب
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 مئی 2018ء) : ڈپٹی کمشنر نارروال کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جسے پنجاب حکومت کو ارسال کردیا گیاہے۔جبکہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق جلسے کے اختتام پر رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے گولی چلائی، گولی احسن اقبال کی کہنی سے لگتے ہوئے پیٹ میں جالگی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایلیٹ فورس کے جوانوں نے گولی چلانے والے ملزم کو گرفتار کیا، حملہ آور نے 15 فٹ کی دوری پر 30 بور کے پستول سے گولی چلائی۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق شکر گڑھ سے ہے، جو کارنر میٹنگ کی تقریب میں موٹر سائیکل پر شرکت کرنے آیا،ملزم کی موٹر سائیکل کو بھی قبضے میں لے لیا گیا، واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملہ کرنے والا کنجرورکے گاؤں ویرم کا رہائشی ہے ۔

ملزم عابد کے 2بھائی ہیں والد کا نام محمد حسین ہے۔ملزم عابد حسین پرچون کی دکان پرکام کرتا ہے۔ملزم کی تاریخ پیدائش 13مئی 1995ء ہے۔ملزم عابددبئی بھی جاچکا ہے۔دوسری جانب ڈی سی ناروال کا کہنا ہے کہ ملزم عابد سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم پرپہلے بھی ایک ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ملزم کے خلاف کس تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق حملہ آور کا تعلق تحریک لبیک سے ہے، ایجنسی رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے ختم بنوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا۔ واضح رہے یہ وہی جماعت نے جس کی جانب سے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ختم بنوت کے معاملے اور حلف نامے میں تبدیلی پر شدید احتجاج کیا تھا۔ پرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

بعد ازاں اعلیٰ قیادت کی یقین دہانی پر تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس کواپنے اعترافی بیان میں ملزم عابد نے بتایا کہ میں نے ختم نبوت ﷺ کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی۔گولی چلانے کا فیصلہ ذاتی تھا۔ دوسری جانب تحریک لبیک کے رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ۔

تحریک لبیک کے رہنماء پیر افضل قادری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کسی بھی بدامنی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی،انتخابات کے قریب وزیرداخلہ پر حملہ قابل غور ہے،سازشوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک لبیک کے رہنماء پیر افضل قادری نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے قریب وزیرداخلہ پر حملہ قابل غور ہے۔

تحریک لبیک کسی بھی بدامنی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔انہو ں نے کہاکہ تحریک لبیک کیخلاف سازشوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ مکمل طورپرسیکیورٹی اداروں کی ناکامی ثابت کرتاہے۔ جب حکومت ایک وفاقی وزیر کو سیکیورٹی نہیں دیسکتی تو عام عوام کی کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی علامہ خادم حسین رضوی نے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسن اقبال پرحملے کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نےکہا کہ تحریک لبیک ایک پرامن سیاسی مذہبی جماعت ہے جوسیاسی جدوجہداورانتخابات کے ذریعے ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتی ہے۔