پشاور، سٹی پیٹرول پولیس کی سال رواں کے پہلے چارمہینوں کی کارکردگی رپورٹ

پیر مئی 12:52

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سٹی پیٹرول پولیس نے سال 2018کے پہلے چار مہینوں میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے 5500 کیسز وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنادیئے، متعدد چوری کی گاڑیاں پکڑ کر کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیاگیا۔ اس دوران وہیکل ویری فیکیشن سسٹم کے ذریعے 2568 گاڑیاں چیک کئے گئے۔ جس میں 24 گاڑیاں یا تو چوری یا نان کسٹم پیڈ تھیں۔

آئیڈنٹیٹی ویری فیکیشن سسٹم کے ذریعے 1156 افراد کا ڈیٹا چیک کرکے 80 مشتبہ افراد پکڑے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کریمینل ریکارڈ ویری فیکیشن سسٹم کے ذریعے 1476 افراد کا ڈیٹا چیک کرکے مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب 10مجرمان پکڑے گئے۔ اس دوران سٹی پیٹرول پولیس کو 438 ایمرجنسی کالز موصول ہو کر 3245 افراد کو مدد فراہم کی گئی۔

(جاری ہے)

750 کالی شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی اور 2900 حساس اور غیر محفوظ مقامات کی سیکورٹی چیک کی گئی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ اس وقت دُنیا میں ہر جگہ خاص طور پر شہروں میں کسی بھی ایمرجنسی اور جرائم کے لئے فرسٹ رسپانڈرز کا تصور قائم ہے جہاں کسی بھی ایمرجنسی یا کال کی صورت میں کم سے کم وقت پر پہنچ کر کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پشاور میں سٹی پیٹر ول فورس کا اجراء کیا گیا تاکہ مصیبت میں مبتلا لوگوں کی بروقت مددکو یقینی بناسکیں۔

اس کا آغاز پشاور کینٹ اور پشاور سٹی میں کیاگیا اور اس کی کامیابی کو مد نظر رکھ کر اس کا دائرہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی بڑھایا جائے گا۔ اس کا بنیادی مقصد ٹرپل ''S'' یعنی سیفٹی ، سیکورٹی اور سروس رکھا گیاہے ۔ یہ فورس کینٹ اور سٹی میں کہیں بھی ایمرجنسی یاجرم پر فوراًً پہنچ کر ملزموں کا تعاقب کو یقینی بنائے گی۔ اس کے ساتھ ہر قسم کی اسٹریٹ کرائمز سے نمٹنے، سماج دُشمن عناصراور جیلوں سے رہاہونے والے افراد اور اشتہاری مجرموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے، اسنیپ چیکنگ، اطلاعات اکٹھا کرنے ، عوام کو ہر مشکل میں سہولت اور تعاون فراہم کرنے، کنٹرول روم 15کی کالز اور ایس اُو ایس الرٹس پر فوری ایکشن لینے اور ایمرجنسی سروسز فراہم کرنے والوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔

سٹی پیٹرول فورس جدید سہولیات سے آراستہ 22گاڑیوںپر مشتمل ہے۔ جن میں ویڈیو کیمروں، وائرلیس سسٹم اور جدید کمپیوٹر سسٹم نصب ہے ۔ ہر گاڑی میں چار اہلکار سب انسپکٹر ، دو ایلیٹ فورس کے جوان اور ایک ڈرائیور ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔ان کی مانیٹرنگ کے لئے جامع قسم کا ایک میکنزم بھی وضع کیا گیاہے جس کے تحت پولیس اسٹیشن شرقی میں پشاور کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں کمانڈ ڈسک بنادیا گیاہے۔

جہاں ہر گاڑی اور عملے کی ساری کاروائیاں ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ ہر گاڑی میں ایک خصوصی سم لگاہواہے۔ جس سے اُنکی ہر ڈیوٹی پوزیشن کے بارے میں پتہ چلتاہے اور کوئی بھی گاڑی اپنے حدود سے باہر نہیں جاسکتی۔ سٹی پیٹر ول فورس کی گاڑیاں جدید اعلیٰ ٹیکنالوجی کی سہولیات سے لیس ہیں۔ جس میں شناختی ویری فیکیشن سسٹم ، وہیکل ویری فیکیشن سسٹم، کریمینل ریکارڈ ویری فیکیشن، وقوعہ کی ٹیگنگ، جیلوں سے رہا ہونے والوں ملزموں کی نگرانی ، کرایہ کے عمارتوں سسٹم کا ریکارڈ اور ٹریفک اًپ ڈیٹس شامل ہیں۔