ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف کی قیادت میں کا وفد کامیاب دورے کے بعد چین سے وطن واپس پہنچ گیا

پیر مئی 13:30

ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف کی قیادت میں کا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )کے ریجنل چیئرمین چوہدری عرفان یوسف کی قیادت میں ایف پی سی سی آئی کا وفد کامیاب دورے کے بعد چین سے وطن واپس گیا۔دورے کے دوران عرفان یوسف نے گوانگژو جنرل چیمبر آف کامرس((جی جی سی سی) چائنہ کے مابین باہمی تجارت کے فروغ ،مارکیٹ ریسرچ کا تبادلہ،دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے جوائنٹ وینجرز اورکینٹن فیئر میں پاکستان وفود کیلئے سہولیات دینے کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت(ایم او یو) پر دستخط کئے ۔

چین کے شہر فوشان میں انڈسٹریل سٹی کے دورہ کے موقع پر چینی کمپنیوں کے سربرہان سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کی گئی۔۔پاکستان میں مزید سرمایہ کاری اور امپورٹ سے متعلق مسائل کو زیر بحث لایا گیا اور اس کے حل میں پیش رفت بھی ہوئی۔

(جاری ہے)

وفد نے چوہدری عرفان یوسف کی قیادت میں گوانگژو جنرل چیمبر آف کامرس(( جی جی سی سی) کے صدر ژوژیانگ اور اور دیگر ممبران سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کی باہمی تجارت پر زور دیاگیا۔

چین میں پاکستان کے کونسل جنرل ڈاکٹر علی احمد آرائیں کی طرف سے ایف پی سی سی آئی کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا گیا۔ ڈاکٹر علی احمد آرائیں کے ساتھ ایف پی سی سی آئی کے وفدکی تفصیلی میٹنگز بھی ہوئی۔۔چین میں پاکستان نیوی کے کو کمانڈر جنرل نعمت اللہ چوہدری سے بھی خصوصی ملاقات کی گئی۔ایئر پورٹ روانگی سے قبل چوہدری عرفان یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ویزہ پروسیس نہایت سادہ اور آسان ہونا چاہئے، چین کواپنی ٹیکنالوجی اور تجربات کو پاکستان میں استعمال کرنا چا ہیے اور مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

چین پاکستان کا بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے دونوں ممالک میں متوازن تجارتی حجم کی اشد ضرورت ہے،،پاکستان کی چین سے امپورٹ بڑھتی جار ہی ہے اور ایکسپورٹ کم ہو رہی ہے۔دونوں ممالک کو تجارت و سرمایہ کاری کے متعلق معلومات کا بروقت تبادلہ یقینی بنانا چاہیے۔ا گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کی بدولت چین کی معیشت کو بھی22 بلین ڈالر کا فائدہ ہوگاکیونکہ ان کو راہداری سے تجارتی فاصلہ کافی کم پڑے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری(((سی پیک))علاقائی رابطے کا اہم فریم ورک ہے۔۔سی پیک سے نہ صرف چین پاکستان کو فائدہ ہو گا بلکہ ایران ،،افغانستان،،،بھارت،،وسطی ایشیاء اور خطے پر بھی مثبت اثرات پڑئے گئے۔