کراچی، سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ملزمان کا افغانستان سے تربیت لینے انکشاف

پیر مئی 14:02

کراچی، سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ملزمان کا افغانستان سے تربیت لینے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) کراچی میں کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) پولیس کے ہاتھوں گرفتار 3 ملزمان نے دوران تفتیش افغانستان میں عسکری تربیت لینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے جڑے رہنے کا انکشاف کیا ہے۔سی ٹی ڈی پولیس حکام کے مطابق کالعدم تنظیموں کے تینوں کارکن بظاہر کراچی میں کاروبار کر رہے تھے لیکن در پردہ یہ ملزمان مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

پولیس کی تفتیشی رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم کی فتان خان کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے اور وہ کراچی کے علاقے لانڈھی میں ظفر ٹائون کا رہائشی ہے۔ ملزم فتان خان کالعدم تحریک طالبان کے استاد اسلم گروپ سے منسلک رہا۔ ملزم کلاشنکوف اور پستول چلانے کا ماہر ملزم ہے تاہم کراچی میں اپنا ذاتی ڈمپر چلاکر ریتی بجری کی سپلائی کرتا رہا۔

(جاری ہے)

ملزم خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکول میں ملازم بھی ہے اور ڈیوٹی کئے بغیر ہر مہینے باقاعدگی سے تنخواہ بینک اکائونٹ کے ذریعے حاصل کرلیتا ہے۔

ملزم کے مطابق اس کی کالعدم تحریک طالبان میں شمولیت کی وجہ ذاتی کاروبار کو تحفظ دینا تھا۔ کالعدم ٹی ٹی پی جوائن کرتے ہی علاقے کے جنگل کا ٹھیکہ لیا اور 32 لاکھ روپے میں فروخت کردیا۔ملزم کے مطابق اس کے عوض اس نے ٹی ٹی پی کمانڈر اسلم کو 50 ہزار روپیہ کمیشن دیا۔ ملزم نے بتایاکہ جنوبی وزیرستان کے گائوں میں چرس پینے پر طالبان نے پکڑا لیا تھا۔

کالعدم ٹی ٹی پی میں شمولیت کے بعد چرس بھی پیتا رہا۔ملزم نے ایک اور انکشاف کیا کہ ایک طرف تو وہ کالعدم تحریک طالبان میں سرگرم اور مرکزی سطح کا کام کررہا تھا دوسری طرف سی پیک کی ایک چینی کمپنی کو ڈمپر فراہمی کی ٹھیکیداری بھی کر رہا تھا۔ملزم کے مطابق اس عرصے میں اس کی جنوبی وزیرستان سے لاہور اور پھر کراچی آزادانہ آمدورفت رہی۔اس گروپ کا دوسرا ملزم ارشاد عرف زکریا ملیر کے گلشن اکبر کا رہائشی ہے جو اسی علاقے میں ایک دینی مدرسہ میں نظامی کورس کے فائنل ائیر میں ہے۔

ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2008 میں وہ جہاد کے لیے افغانستان جانے کے لیے نکلا لیکن کم عمری کی وجہ سے واپس کردیا گیا، ملزم کالعدم تحریک طالبان کے استاد اسماعیل گروپ سے منسلک تھا اور کلاشنکوف اور پستول چلانے کا ماہر ہے۔ڈھوک جیلانی 12 کہو اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ملزم کامران کا خفیہ نام حذیفہ تھا۔ ملزم کے مطابق اس کا ایک بھائی امریکن ایمبیسی اسلام آباد کے کچن میں ملازم اوردوسرا دبئی کے ہوٹل میں کام کرتا ہے۔

ملزم کے مطابق کالعدم حرکت الجہاد اسلامی سے منسلک ہوکر اس نے عسکری تربیت حاصل کی۔ گرفتار ملزمان ماضی میں ایک عرصے تک کراچی کے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی میں ملوث رہے۔اس ضمن میںایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی کوششوں سے ملیر سمیت کراچی بھر میں انتہا پسندی پر قابو پایا جا چکا ہے اور گرفتار ملزمان کی پشت پناہی میں افغانستان کے خفیہ ادارے ملوث رہے، ملزمان کی تفتیشی رپورٹ بھی بین الاقوامی اداروں کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔