روئی کی بڑھتی ہوئی طلب ‘

آئندہ سال قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہے گا، پنجاب حکومت نے ’’کاٹن مشن 2025‘‘ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد 2 کروڑ گانٹھوں کے حصول کے ہدف کو یقینی بنانا ہے،ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

پیر مئی 14:26

لاہور۔7 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ روئی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر آئندہ سال قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہے گا،،پنجاب حکومت نے کاٹن مشن 2025‘‘ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد 2 کروڑ گانٹھوں کے ہدف کے حصول کو یقینی بنانا ہے،صوبہ میں سال 2017-18میں کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 20.48من ریکارڈ کی گئی جوسال 2016-17میں20من تھی۔

ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہکاشتکاروں کو امسال ایک لاکھ ایکڑ کیلئے کپاس کی ترقی دادہ اقسام کا بیج 50 فیصد سبسڈی پر فراہم کیا جارہا ہے ،کپاس کی منظور شدہ اقسام کے بیج پر ملتان،، بہاولپور اور ڈیرہ غازیخان کے کاشتکاروں کو 700 روپے فی بیگ سبسڈی کی فراہمی جاری ہے، کپاس کی فصل کو مون سون بارشوں کے نقصانات سے محفوظ رکھنے اور زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے 6 کروڑ روپے کی لاگت سے رین واٹر مینجمنٹ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے،علاوہ ازیں کپاس کے کاشتکاروں کو 14 کروڑ 74 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے سپرے مشینری سبسڈی پرفراہم کی جارہی ہے، کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے بچانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے 96.2 ملین روپے کی لاگت سے صوبہ بھر کی 54تحصیلوں میں فی تحصیل 50 ایکڑ پر مشتمل نمائشی بلاک قائم کئے جا رہے ہیں،ان بلاکس میں پی بی روپس مفت لگائے جائیں گے، کپاس کے بیج کی تیاری کیلئے کمیشنڈ ریسرچ پروگرام تشکیل دیا گیا ہے جس کی لاگت 350.089 ملین روپے ہے، سفید مکھی کا کنٹرول بذریعہ مربوط لائحہ عمل اور قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کی تیاری بذریعہ جینیاتی تدابیرکا تین سالہ منصوبہ 39.612 ملین روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے تاکہ کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے بتایا کہ سال 2017-18میںکل 50لاکھ73ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی گئی جوکہ سال 2016-17میں کل 44لاکھ86ہزار ایکڑ کاشتہ رقبہ کے مقابلہ میں 13.10فیصد زیادہ تھی،سال2016-17میں صوبہ میں کل69لاکھ78ہزار روئی کی گانٹھیں پیدا ہوئیں جبکہ سال 2017-18 کے دوران کراپ رپورٹنگ کے فائنل تخمینہ کے مطابق پنجاب میں 80لاکھ 77ہزار گانٹھیں روئی پیدا ہوئی یعنی پچھلے سال کی نسبت15.70فیصد زائدروئی کی گانٹھیںحاصل ہوئیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فی ایکڑ پیداوار کی بات کی جائے تو سال2016-17 کے مقابلہ میں 2017-18 کے دوران2.40 فیصد زیادہ پیداوارریکارڈ کی گئی۔ترجمان نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ملکی معیشت زیادہ تر دارومدار کپاس پر ہے، 51 فیصد زرمبادلہ کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمد سے حاصل کیا جاتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :