پاکستان میں آم کی 110 اقسام کی کاشت،آم کا کاشتہ رقبہ 4 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا ،ماہرین زراعت

پیر مئی 14:26

فیصل آباد۔7 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان میں اس وقت آم کی اعلیٰ ترین معیار اور بہترین لذت کی حامل 110 اقسام کاشت کی جارہی ہیںجبکہ ملک میں آم کا کاشتہ رقبہ 4لاکھ 20 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا ہے نیز فروٹ فلائی سے آم کو بچانے کیلئے ملتان ، رحیم یارخان ، مظفرگڑھ ، خانیوال ، بہاولپور میں خصوصی اقدامات جاری ہیں تاکہ باغبانوں کو فروٹ فلائی کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے بروقت تدارکی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ زراعت کے ترجما ن نے بتایاکہ آم کے پھل کی برآمد میں اضافہ کو یقینی بنانے کیلئے پھل کی مکھی کا تدارک انتہا ئی نا گزیر ہے کیونکہ فروٹ فلائی کے تدارک سے نہ صرف باغبانوں کے شرح منافع میں اضافہ ہو گا بلکہ برآمدات بڑ ھیں گی اور ملکی تجارتی ساکھ میں بہتر ی اور زیادہ زر مبادلہ حاصل کیا جا سکے گا ۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ آم کی ملکی پیداوار میں پنجاب کا حصہ قریباً60فیصد ہے۔

انہوںنے بتایاکہ گزشتہ سال کے دوران پنجاب میں 13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد آم پیدا ہوئے ۔ انہوںنے بتایاکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان نے امریکہ،، جاپان، اردن، موریشیس اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کی ہے جبکہ اس سے قبل پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ زیادہ تر متحدہ عرب امارات کو کی جاتی رہی ہے جو قریباً 60سے 70ہزارمیٹرک ٹن ہے۔انہوںنے کہاکہ اگرچہ پاکستانی آم اعلیٰ معیار، ذائقہ اور غذائیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے تاہم ملکی پیداوار کا صرف 6 فیصد آم برآمد کیا جا رہا ہے جبکہ آم برآمد کرنے والے دیگر ممالک میں میکسیکو اور برازیل بالترتیب کل پیداوار کا 14 فیصد اور 12 فیصدبرآ مد کر رہے ہیں۔