میرے خلاف کیس میں لگائے گئے الزامات صحیح ہوتے تو یہ آٹھ مہینے نہ لیتا ،

اس کا فیصلہ آٹھ ہفتوں میں ہو جاتا، اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا کہ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ آپ بریت کی درخواست دیں، جن کے خلاف لوٹ مار کے مقدمے ہیں انہوں نے پچھلے پانچ دس سالوں میں دوتین پیشیاں بھی نہیں بھگتی ہوں گی اور میں 62 ویں پیشی بھگت رہا ہوں، ووٹ کو عزت دو والا نعرہ گھر گھر سے اٹھ رہا ہے، انتخابات ملتوی کون کرے گا،22 کروڑ عوام ان کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان کے آگے کھڑے ہو جائیں گے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

پیر مئی 14:33

میرے خلاف کیس میں لگائے گئے الزامات صحیح ہوتے تو یہ آٹھ مہینے نہ لیتا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کیس میں حقائق ہوتے، اس کے اندر کوئی مواد ہوتا یا اس میں لگائے گئے الزامات صحیح ہوتے تو یہ آٹھ مہینے نہ لیتا بلکہ اس کا فیصلہ آٹھ ہفتوں میں ہو جاتا، اگر آٹھ ماہ بعد بھی اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو رہا تو تسلیم کرلیا جانا چاہیے کہ اس میںکچھ نہیں ہے۔

پیر کو یہاں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز شریف نے کہا کہ آج تک ایک بھی ایسا گواہ نہیں آیا، ایک بھی ایسا کاغذ اور دستاویز نہیں پیش کی گئی جس سے یہ ثابت ہو سکتا کہ اس مقدمے میں کوئی حقیقت ہے،گواہ، بشمول غیر ملکیوں کے، جھوٹے پڑتے رہے، رابرٹ ریڈ لے بھی الٹا ہمیں ہی تقویت پہنچا کر گیا، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ کتنا کمزور کیس ہے اور میں تو اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا کہ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ آپ بریت کی درخواست دیں،کیس کو جتنا بھی کھینچیں گے اس میں کچھ نہیں ہے، کیا اس کو اس وقت تک کھینچیں گے جب تک اس میں کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جس سے نواز شریف کو سزا دی جا سکے، اگر وہ نہیں ہے تو تسلیم کرلیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور الحمداللہ نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی کرپشن،، خورد برد اور لوٹ مار کا کیس نہیں ہے اور جن کے خلاف لوٹ مار کے مقدمے ہیں انہوں نے پچھلے پانچ دس سالوں میں دوتین پیشیاں بھی نہیں بھگتی ہوں گی، وہ گھروں میں سکھ کی نیند سو رہے ہیں اور میں 62 ویں پیشی بھگت رہا ہوں، یہ سب یک طرفہ ہے چل رہا ہے اور آج کل معاملات کا یکطرفہ چلنے والا زمانہ نہیں ہے اور انشاللہ قوم اس کا فیصلہ بہت جلد کر دے گی۔

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو کیس پہلے سے بنے ہوئے ہیں ان کا فیصلہ نہیں ہوا اور جو کیس بڑے عرصے سے چل رہے ہیں ان کی پیشیاں ہی نہیں ہوتیں اور ہماری پیشیاں ہفتے میں پانچ پانچ بار ہو تی ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہمارا دامن صاف ہے، جو کرنا ہے کر لیں، وہ بھی نہیں کر سکتے وہ بھی ان سے نہیں ہوتا ۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کسی صورت ملتوی ہونے نہیں چاہیئںاور نہ ہم ہونے دیں گے۔

آپ قوم کا جذبہ دیکھ رہے ہیں ، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والا نعرہ گھر گھر سے اٹھ رہا ہے اور اب جب قوم اپنے ووٹ کی توقیر اور عزت کو سمجھ رہی ہے اور جان چکی ہے تو انتخابات کیسے ملتوی ہو سکتے ہیں۔ انتخابات کون اور کیوں ملتوی کرے گا،22 کروڑ عوام ان کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کہنا تھا کہ عمران خان 2011 ء اور 2018 کا فرق جانتے ہیں اور اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں تو پھر جن کے خلاف کہہ رہے ہیں ان کو عمران خان سے پوچھنا چاہیئے کہ آپ کیسے یہ بات کرتے ہیں۔