چاہ بہار بندرگاہ گوادر کیلئے چیلنج نہیں ،

علاقائی تجارت میں معاون ہوگی،وزیراعظم

پیر مئی 14:33

چاہ بہار بندرگاہ گوادر کیلئے چیلنج نہیں ،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمارا خطہ توانائی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے‘ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو تجارتی رسائی دے سکتا ہے‘ خطے کی ترقی کے لئے سی پیک جیسے منصوبے بنانا ہوں گے‘ بلوچستان میں بارہ سو کلومیٹر شاہرائیں تعمیر کیں‘ موٹر ویز سے رابطے کے لئے بہترین ذرائع میسر آرہے ہیں‘ پاک بحریہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہے۔

پیر کو بحریہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں سمپوزیم کا انعقاد اہم ہے پاکستان سے منسلک تجارتی خطہ دنیا کا چالیس فیصد ہے جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔

(جاری ہے)

دنیا کی اسی فیصد تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے جغرافیائی حیثیت کو روابط کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔

ہمارا خطہ توانائی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو تجارتی رسائی دے سکتا ہے۔ افغان سکیورٹی مسائل سے دوچار ہے خطے کی ترقی کے لئے سی پیک جیسے منصوبے بنانا ہوں گے۔ بلوچستان میں بارہ سو کلومیٹر شاہرائیں تعمیر کیں۔ ہمیں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ علاقائی روابط اور تجارت ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہیں۔ موٹر ویز سے رابطے کے بہترین ذرائع میسر آرہے ہیں۔ پاکستانی معیشت مستحکم ہورہی ہے رواں سال تقریباً چھ فیصد شرح نمو حاصل کی۔ پاک بحریہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہے چاہ بہار بندرگاہ گوادر کے لئے چیلنج نہیں چاہ بہار بندرگاہ بھی علاقائی تجارت میں معاون ہوگی۔