نگراں وزیراعظم کا اعلان آخری لمحات میں ہوگا ،ْحکمران جماعت اور پیپلز پارٹی کا اتفاق

مزید مشاورت کیلئے آئندہ 2 سے 3 روز میں وزیراعظم سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کریں گے ،ْسید خورشید شاہ میڈیا میں آنے والے نام زیر غور ضرور رہے ہیں تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے ،ْشاہ محمود قریشی

پیر مئی 15:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور ملک کی اہم اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین نگران وزیراعظم کیلئے مجوزہ ناموں کو حتی الامکان خفیہ رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔ یہ فیصلہ ذرائع ابلاغ میں اس موضوع پر کی جانے والی غیر ضروری اور متوقع متنازع گفتگو سے بچنے کیلئے کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پایا کہ کسی بھی تنازع سے بچنے کیلئے نگراں حکومت کے لیے مجوزہ افراد کا نام آخری لمحات تک خفیہ رکھا جائیگا۔

واضح رہے کہ نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان 3 سے 4 مرتبہ مشاورت ہوئی تاہم ہر مرتبہ ان کا یہی کہنا تھا کہ فی الوقت کوئی نام زیر غورنہیں۔

(جاری ہے)

نجی ٹیو ی سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مزید مشاورت کیلئے آئندہ 2 سے 3 روز میں وزیراعظم سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کریں گے۔انہوں نے تصدیق کی کہ وزیراعظم کے ساتھ نگراں حکومت کیلئے ناموں کا تبادلہ آخری ملاقات میں کرنے پر باہمی اتفاق ہوگیا اور طے پایا کہ زیر غور ناموں کو میڈیا سے خفیہ رکھا جائیگا۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ ناموں کو آخری لمحات تک خفیہ رکھنے کا اقدام قصداً کیا جارہا ہے اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی قیادت سے بھی درخواست کی کہ تجویز کردہ ناموں کا اعلان آخری لمحات تک نہ کیا جائے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے اب تک نگراں سیٹ اپ کے لیے ناموں کو حتمی شکل نہیں دی۔انہوںنے کہاکہ ہر جماعت میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ذرائع ابلاغ کے افراد سے اچھے مراسم نبھانے کیلئے حساس معلومات لیک کردیتے ہیں جس کے بعد تجزیوں، تبصروں اور تنقید کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور دونوں فریقین کے مابین کسی باہمی اتفاق رائے میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

سید خورشید شاہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے حال ہی میں اپنے نامزد کردہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جس کے بعد میڈیا میں ان افراد کا تعلق سابق فوجی آمر پرویز مشرف سے جوڑا جانے لگا اور ایک تنازع کھڑا ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ حالانکہ ہم نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما شاہ محمود قریشی سے درخواست کی تھی کہ اپنے نامزد کردہ امیدواروں کے نام بند لفافوں میں بھجوائیں لیکن پارٹی رہنماؤں نے مذکورہ ناموں کا اعلان میڈیا پر کردیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے باضابطہ طور پر ناموں کا اعلان نہیں کیا، اس بارے میں پارٹی میں اب بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ پارٹی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ان کی جماعت نے ناموں کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی البتہ انہوں نے تصدیق کی کہ میڈیا میں آنے والے نام زیر غور ضرور رہے ہیں تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے نامزد کردہ ناموں کو میڈیا میں موضوع بحث بننے پر خورشید شاہ کی ناراضگی کو بجا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم مشاورت ہی کررہے تھے کہ پارٹی میں موجود کسی فرد نے اپنی قابلیت جھاڑنے کے لیے میڈیا میں وہ نام لیک کردیئے تاہم اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے حکومت اور اپوزیشن پر نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے ہونے والی مشاورت کو خفیہ رکھنے پر تنفید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کوئی ایٹم بم بنانے والے سائنسدان کی تقرری نہیں کررہے یہ ایک سیاسی عمل ہے تو اسے خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت ہی ۔