تفصیلی خبر)

پانچ سالوں میں ملک سے دہشت گردی، توانائی کے بحران کا خاتمہ کیا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے دعوت دیتے ہیں پاکستان مستقبل میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم منزل ہو گی، غربت کے خاتمے اور معاشی خوشحالی کے لئے شرح نمو9 فیصد تک لے جانا انتہائی ضروری ہے مغربی چین کو پاکستان کی بندر گاہوں سے منسلک کرنے کے اکثر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، ملکی تاریخ میں دوسری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب ٹیکس ادا نہ کرنے والے شہری ملک میں زمین، نئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے، فارن کرنسی اکائونٹ نہیں کھلوا سکیں گے، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

پیر مئی 15:40

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان مستقبل میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم منزل ہو گی، غربت کے خاتمے اور معاشی خوشحالی کے لئے شرح نمو9 فیصد تک لے جانا انتہائی ضروری ہے، ہم نی 5سالوں میں ملک سے دہشت گردی، توانائی کے بحران کا خاتمہ کیا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے دعوت دیتے ہیں۔

وہ پیر کو سرمایہ کاری بورڈ اور جنگ گروپ کے تعاون سے سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس کا موضوع شرح نمو کو 9 فیصد تک لے کے جانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے قومی پالیسیاں جاری رہنی چاہئیں، ہم 5 سال میں چیلنجز کے باوجود ترقی کی طر ف بڑھے، پاکستان سے دہشت گردی کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دہشت گردوں کی تمام پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا ہے جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے اور دہشت گردی کے خلاف وہ کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں جس میں اور لوگ ناکام رہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ بڑی کامیابیوں اور کاوشوں کے بعد پاکستان کو ایک محفوظ جگہ بنا دیا گیا ہے۔ ملک میں امن لانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور اسے برقرار رکھا جارہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں ٹھوس سرمایہ کاری کی گئی، ملک میں 17 سو کلومیٹر موٹرویز بنائی جا رہی ہیں، اقتصادی زونزسے روزگار کے مواقع بڑھیں گے، اس کے ساتھ ساتھ بندر گاہیں اور ایئرپورٹس کی بہتری کی جارہی ہے جبکہ بجلی اور قدرتی گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں پہلی بارٹیکس اصلاحات کی گئی ہیں جو ملک کی روشن خیال پالیسیوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے مزید ٹیکس مراعات مہیا گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے شرح نمو کو 9 فیصد تک لے جانا بہت ضروری ہے، ہماری حکومت آئی تو اس وقت شرح نمو 3 فیصد تھی جبکہ ہم نے اسے دوگنا کیا اور اب یہ 6 فیصد ہے۔

انہوں نے کہاکہ سینکڑوں کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ وزیراعظم نے سفارتکاروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بتایاکہ 4 سال میرے پاس وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کا منصب رہا اور تیل و گیس کے شعبہ میں کسی ایک کمپنی کی پاکستان میں سرمایہ کاری ضائع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میسر آسکیں گے۔

ملک سرمایہ کاروں کے لئے پہلی ترجیح بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درپیش چلینجز پر کامیابی سے قابو پایا ہے، 5 سال میں چیلنجز کے باوجود ترقی کی طر ف بڑھے، ملک میں گیس کی قلت کا خاتمہ کیا، بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اقتصادی راہداری ملک کی ترقی کا وژن ہے، یہ علاقائی روابط کا اہم جزو ہے، سی پیک کے نتیجہ میں مسابقت کی فضاء سے معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا، مغربی چین کو پاکستان کی بندر گاہوں سے منسلک کرنے کے اکثر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ملکی تاریخ میں دوسری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں بہتری اور 100 فیصد انرولمنٹ یقینی بنانے کے لئے 100،100، 100 پروگرام پر عمل کریں گے اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے ۔ اس کے علاوہ نیوٹریشن پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جا رہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اقتصادی زونز کے قیام کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس سے ملک میں روزگار بڑھے گا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہاں ان کا سرمایہ مکمل محفوظ رہے گا اور انہیں سرمایہ کاری پر بھرپور منافع حاصل ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان مستقبل میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم منزل ہے ۔۔پاکستان کے حوالے سے جو تصویر پیش کی جاتی رہی حقائق اس سے مکمل مختلف ہیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی طرف سے مضبوط معیشت کے لئے اٹھائے گئے اقدامات، افراد کے لئے ٹیکس کے نرخوں میں کمی اور مراعات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے لئے سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں ۔ پاکستان میں ٹیکس ادا نہ کرنے والے زمین نہیں خرید سکیں گے۔ وہ فارن کرنسی اکائونٹ نہیں کھلوا سکیں گے، نئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 2025ء میں متوسط درجہ میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہو رہا ہے اور عالمی کمپنیوں کے پاس پاکستان میں سرمایہ کاری کے علاوہ اسے چھوڑنے کاکوئی آپشن نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اگر وہ تعلیم یافتہ ہوں تو ان کے لئے بڑی مراعات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے وسیع ملک ہے اور جو یہاں پر سرمایہ کاری کریں گے وہ پاکستان کو اپنا دوست پائیں گے۔