سندھ کے وزیر،مشیر اور بالا افسران سابق بن گئے پر سرکاری گاڑیوں پر قبضہ برقرار

شرمیلا فاروقی ،روبینہ قائم خانی ،اختر جدون ،یوسف ابراہیم ،اصغر جونیجو ،تاج حیدر ،علی حسن ہنگورو اور ساجد بانبھن تاحال سرکاری گاڑیوں پر قابض ریاض سہتو ،ممتاز الرحمن ،رئیس الدین پراچہ ،سید ذاکر شاہ ،نذیر دھون ،شمس الحق ،محمد ناصر ،سید ہاشم رضا زیدی اور سلیم ہوتیانہ نے بھی گاڑیاں واپس نہیں کیں

پیر مئی 15:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سندھ کے کئی وزیر، مشیر،معاون خصوصی اور بالا افسران اپنی مقررہ مدت پوری کرکے موجودہ سے سابق بن گئے پر سرکاری گاڑیوں پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کی 36 لگژری گاڑیوں پر سابق وزیر،مشیر، معاون خصوصی اور اعلی افسران غیرقانونی طورپر قابض ہیں۔سابق معاون ثقافت شرمیلافاروقیGS-7127.،نادیہ گبول GSA.092 اور روبینہ قائمخانی نے GSA-720 گاڑیاں واپس نہیں کی۔

سابق وزیرٹرانسپورٹ اخترجدون دو کرولا گاڑیوں GS-7924 اورGS-7966پرجبکہ کچھ ماہ معاون خصوصی رہنے والے یوسف ابراہیم مستوئی بھی دوگاڑیوں GS-8515اورGSC-877 پر قابض ہیں۔سابق مشیرمحنت اصغرجونیجو،سینیٹر تاج حیدر،علی حسن ھنگورو اور ساجد علی بانبھن کے نام بھی گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹرگیان چند، حنادستگیر، شہنازبیگم ، جاویداحمد شاہ ہاشمی اور عبدالرزاق اگر بھی کرولا گاڑیاں واپس کرنا بھول گئے ہیں۔

ڈاکٹرارشدمغل اور طارق غوری بھی سرکاری گاڑیوں کو ذاتی استعمال میں لانے اور واپس نہ کرنے کو اپنا فرض سمجھ بیٹھے ہیں۔سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں میں سابق سرکاری افسران بھی شامل ہیں ۔سابق ڈی ایس بجٹ ریاض سہتو تین گاڑیاں،، سابق سیکرٹری ممتازالرحمان اوررئیس الدین پراچہ ایک نہیں دو دو سرکاری گاڑیوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔سابق چیف سیکرٹری سلیم ہوتیانہ اور سیکرٹری ھاشم رضازیدی نے بھی سرکاری گاڑیاں واپس کرنے کو ضروری نہیں سمجھا۔

ریٹائرڈ افسر نذیردھون،اوایس ڈی شمس الحق اور محمد ناصر بھی گاڑیاں واپس نہ کرنے والوں میں شامل ہیں، جبکہ محکمہ تعلیم کے سابق اسپیشل سیکریٹری سید ذاکر شاہ نے بھی گاڑی واپس نہیں کی۔بااثر افراد کو بارہا خطوط لکھنے کے باوجود گاڑیاں واپس نہیں ہوئی،وزیراعلی سندھ نے نوٹس لیکر سخت احکامات دیئے تھے،،گاڑی واپس نہ کرنے پران افراد کے خلاف ایف آئی آر داخل کرنے کے احکامات دیئے، تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ادھر ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کو بھیجی گئی رپورٹ میں استعمال ہونے والی سرکاری لگژری گاڑیوں کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔