کامرس نیوز*

رواں مالی سال غذائی برآمدات میں 9ماہ میں 28فیصد اضافہ چینی گروپ اگست کے مہینے میں پاکستان کا دورہ کریگا، پاک چین مشترکہ ورکنگ گروپ زراعت میں بیج کے شعبے میں ترقی، آبپاشی، باغبانی اور گوشت کی صنعت پر کام مکمل کرے گا

پیر مئی 15:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان کے غذائی بر آمدات میں رواں مالی مالی سال کے 9 مہینوں کے دوران 28 فیصد اضافہ ہوا اور اس میں اگلے سال مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔وفاقی بجٹ میں اعلان کیے گئے مراعات اور چینی کمپنیوں کی جانب سے زراعت میں جدت اور ویلیو ایڈڈ غذائی مصنوعات کی پیداوار سے ہماری غذائی بر آمدات میں اضافہ ہوگا۔

چینی گروپ اگست کے مہینے میں پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے پاک چین مشترکہ ورکنگ گروپ زراعت میں بیج کے شعبے میں ترقی، آبپاشی، باغبانی اور گوشت کی صنعت پر کام مکمل کرے گا۔حکام کا کہنا تھا کہ اس دورے کے بعد ہم اس قسم کے ہر شعبوں میں چینی کمپنیوں کی غیر ملکی ڈائریکٹ سرمایہ کاری کی امید کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے محکمہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق مالی سال 2018 کے 9 مہینوں میں غذائی بر آمدات میں 28 فیصد اضافہ ہوا جو 2.68 ارب ڈالر سے 3.43 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ چاول، گندم اور چینی نے بر آمدات کے اضافے میں اہم کردار ادا کیا اور اس میں اس ہی مدت کے دوران 75 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اس ہی طرح سبزیوں کے بر آمدات میں 53 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ پھلوں کی قیمت میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔اگلے مالی سال کے بجٹ میں موجودہ حکومت نے نئے ذراعتی ریسرچ سپورٹ فنڈ اور ذراعتی ٹیکنالوجی فنڈ کی پیشکش کی ہے جس کے تحت دونوں شعبوں کو ابتدائی طور پر 5،5 ارب روپے دیے جائیں گے۔وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اور ریسرچ کے سینیئر حکام کا کہنا تھا کہ امید کی جارہی ہے کہ دونوں منصوبے پاک چین کے مشترکہ ورکنگ گروپ برائے زراعت کے تحت کام کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ملنے والے پہلے فنڈ کو فصلوں کے بیج کو حاصل کرنے پر ریسرچ اور جدید ڈیری پلانٹس لگانے کے لیے مالیاتی گرانٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جبکہ دوسرے کو زراعت کے تمام ذیلی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجیز کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ان اقدامات اور زراعتی ساز و سامان کے در آمد میں ڈیوٹی کی کمی سے ہم غذائی در آمدات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

مویشیوں کے لیے رعایت میں نسل کی پیداوار کے لیے در آمد کیے جانے والے بیلوں پر 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی کو ختم کرنا، مویشیوں کے چارے کی در آمد پر لگی ڈیوٹی کو 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنا، کارپوریٹ ڈیری ایسوسی ایشن کے اراکین کے لیے ڈیری فارمز میں استعمال ہونے والے پنکھوں کی در آمد کو 3 فیصد ڈیوٹی کی اجازت اور جانوروں کے چارے اور ڈیری فارمز پر لگے سیلز ٹیکس کو ختم کرنا شامل ہے۔۔