کامرس نیوز*

آئندہ مالی سال نئی ٹیکس اسکیم کی بنیادی اصلاحات ریئل اسٹیٹ کے ذریعے سے ٹیکس چوری اور غیر قانونی پیسہ جمع کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے تیار

پیر مئی 15:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء)آئندہ مالی سال 19-2018 میں شامل ہونے والی نئی ٹیکس اسکیم کی بنیادی اصلاحات ریئل اسٹیٹ کے ذریعے سے ٹیکس چوری اور غیر قانونی پیسہ جمع کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ماہرین کو حکومتی اسکیم کی کامیابی پر ابہام ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ حکومت اس اسکیم کی وجہ سے اپنے اہداف مکمل نہیں کر پائے گی۔

اس حوالے سے ماہرین کی رائے بھی تجویز شدہ اصلاحات کے اثر انداز ہونے کے حوالے سے تقسیم کا شکار ہے، کیونکہ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اصلاحات بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے رقوم گھروں پر بھیجنے سے روکیں گی۔ان اصلاحات کی وجہ سے ٹیکس ادا نہ کرنے والے شخص کو اس کے غیر اعلانیہ اثاثوں کو معمولی ٹیکس ادا کرکے قانونی بنانے کا موقع مل جائے گا۔

(جاری ہے)

آئندہ مالی سال کے آغاز سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سمیت جو بھی شخص ٹیکس دہندہ ہوگا صرف وہی 40 لاکھ یا اس سے زائد کی جائیداد خریدنے کا مجاز ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے ایڈجسٹ ایبل پراپرٹی ٹیکس کو کم کرکے جائیداد کی قیمت کا صرف ایک فیصد تک کردیا ہے۔صوبوں کو سفارشات پیش کی گئیں ہیں کہ وہ جائیداد کا رجسٹریشن ٹیکس کم کرکے ایک فیصد تک کر دیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اسٹیمپ ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور دیگر اخراجات کو ختم کردیں، جس کی وجہ سے ایڈجسٹ ایبل اور نان ایڈجسٹ ایبل ٹیکس کے بوجھ پر واضح ضرب لگ سکے گی۔

جائیدادوں کی ان کی حقیقی قیمتوں پر رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کی جانب سے ایڈوانس انکم ٹیکس اور صوبائی ڈی سی کے لیے لاگو ٹیکس کو ختم کرنے کی تجویز بھی دی۔یہ اسکیم حکومت کو بااختیار بنائے گی کہ وہ کہ جائیداد کی رجسٹریشن قیمت کا 100 فیصد ادا کرکے جائیداد حاصل کر سکے، لہذا اسی تناظر میں خیال کیا جارہا ہے کہ مالکان جائیداد کی خرید و فروخت کے وقت اس کی رجسٹریشن حقیقی قیمت کے 50 فیصد کے ساتھ کرائیں گے۔

ایسی جائیدادیں جو یکم جولائی 2019 کے بعد رجسٹرڈ کی جائیں گی، ان پر حکومت کو ان کے رجسٹرڈ قیمت کے 75 فیصد زائد ادا کرنے پر حصول کا اختیار ہوگا، اس کے علاوہ یکم جولائی 2020 کے بعد اس کی شرح کم ہوکر 50 فیصد تک آجائے گی، جبکہ مستقبل کے لیے شرح یہی رہے گی۔پالیسی سازوں کو امید ہے کہ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جائیدادیں اپنی حقیقی قیمت کے 67 فیصد تک رجسٹرڈ ہوجائیں۔۔