پاکستان میں مرسیڈیز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے این ایل سی اور ڈیملراے جی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

پیر مئی 15:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور ڈیملراے جی نے پاکستان میں مرسیڈیز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیئے۔ڈائریکٹر جنرل این ایل سی میجر جنرل مشتاق احمد فیصل اور پاک این ایل سی موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ضیا احمد جبکہ مرسیڈیز بنز سپیشل ٹرک کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ کلاوس فشینگر اور جرمنی میں سیلز کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے دستخط کیے۔

اس موقع پر شاہنواز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جنرل مینجر نسیم شیخ اور پاکستان میں مرسیڈیز بنز گاڑیوں کے مجاز تقسیم کنندہ احمد نعیم بھی موجود تھے جنہوں نے قومی اہمیت کے اس منصوبے کے لیے دونوں پارٹنرز کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔

(جاری ہے)

این ایل سی کی جانب سے مرسیڈیز بنز ٹرکوں کی مقامی سطح پر پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کی صنعت میں بنیادی تبدیلی کا باعث ثابت ہوگی۔

یورپین مصنوعات کو اپنی ایڈوانس ٹیکنالوجی،،، عمدہ کارکردگی، ماحول دوستی، پائیداری اور روڈ سیفٹی کی بنا پر برتر ی حاصل ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل مشتاق احمد فیصل نے مفاہمت کی یاداشت کو پاکستان کی کمرشل گاڑیوں کی صنعت کے لیے تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرسڈیز بینز ٹرکوں کی مقامی سطح پر تیاری پاکستان کی لاجسٹکس انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

جدید ترین اسمبلی پلانٹ کی تنصیب روڈ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی کارکردگی میں مزید بہتری کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آ ٹو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21 میں دی گئی مراعات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئے مرسڈیز ٹرک مارکیٹ میں مسابقتی قیمت پر دستیاب ہوں گے۔ڈائریکٹر جنرل این ایل سی نے کہا کہ مرسڈیز بنز ٹرکوں کی پاکستان میں اسمبلی ٹرکنگ کے شعبے میں صحتمندانہ مقابلے کی فضا پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے باربرداری کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت مقامی ونڈر انڈسٹری میں معیاری تبدیلی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گی۔ رکن ایگزیکٹو کمیٹی اور سپیشل مرسڈیذ بنز ٹرک کے سیلز اور مارکیٹنگ کے سربراہ ڈاکٹر رالف فورچر نے اس موقع پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوںکے دوران پاکستان کے انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی کے براہ راست اثرات لاجسٹکس کی صنعت پر مرتب ہوئے جس کی وجہ سے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی مضبوط معاشی شرح نمو نے کمرشل گاڑیوں کی طلب میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اس شعبے میںٹرکوں کی مانگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سی پیک کی بدولت مواصلات کا جدید نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو پاکستان کے شمالی علاقوں ، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملائے گا۔۔