ْ پنجاب میں جنگلی حیات کی اقسام اورتعداد کااندازہ لگانے کیلئے ریسرچ ایجنڈا ایک ہفتہ کے اندر طلب

پیر مئی 16:49

لاہور۔7 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ڈائریکٹر جنرل وائلڈلائف اینڈ پارکس پنجاب خالد ایاز خان نے پنجاب وائلڈلائف ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے حکام کو صوبہ میں موجود جنگلی حیات کی اقسام اور ان کی تعداد کااندازہ لگانے کیلئے ایک ہفتہ کے اندر ریسرچ ایجنڈا بنا کر پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے ،انہوں نے یہ بات اپنے دفتر میں جنگلی حیات بارے ریسرچ اور جانوروں و پرندوں کی سیل پوائنٹس پر غیر قانونی فروخت پر قابو پانے کے حوالے سے بلائے گئے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹرہیڈکوارٹرز محمد نعیم بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ مظہر امتیاز ، ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف پبلسٹی عامرمسعود ، ڈائریکٹر چڑیاگھر حسن علی سکھیرا ،ڈپٹی ڈائریکٹر وائلڈلائف لاہورریجن سید ظفر الحسن اور پراجیکٹ ڈائریکٹر میاں حفیظ احمد کے علاوہ صوبہ بھر کے ریجنل افسران بھی موجود تھے، ڈی جی وائلڈلائف نے کہا کہ ریسرچ ایجنڈاپیش کئے جانے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد افسران کی نامزدگی کرکے اس پرکام شروع کیا جا ئیگا،خالد عیاض خان نے اجلاس میں موجود تمام ریجنل افسران کوہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع میں موجود جانوروں و پرندوں کے سیل پوائنٹس کی سختی سے مانیٹرنگ کریں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پائے جانے پر ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیں،انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈیلر کو جنگل سے پکڑ کر جانوروپرندے فروخت کرنے کی اجازت نہیں ، انہوں نے افسران پر زور دیاکہ وہ بریڈنگ سنٹرز سے خرید کر سیل پوائنٹس پر فروخت کیلئے رکھے گئے جانوروں اور پرندوں کی خریداری کاریکارڈ چیک کریں ،اس کابریڈنگ سنٹرز کے ریکارڈ سے موازنہ کریں، انہوں نے کہاکہ جانوروں اورپرندوں کے ڈیلرز کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ضلع کے افسر جنگلی حیات سے ہی لائسنس بنوائیں،خریدو فروخت کامکمل ریکارڈ پیش کرنے پرہی ڈیلر لائسنس کی تجدید کی جائے ۔

متعلقہ عنوان :