یونائیٹڈ سٹیٹس فارما کوپی کے تعاون سے تربیتی پروگرام 10مئی تک جاری رہے گا، ترجمان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی

پیر مئی 16:55

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس فارما کوپی (یو ایس پی) کے ماہرین نے ایک تربیتی پروگرام بنام ’’ٹریزز کی تربیت، پاکستان میں فارما کوویجلینس سسٹم کا قیام‘‘ کا آغاز کیا ہے جو کہ 10مئی تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد ڈریپ افسران اور شوکت خانم ہسپتال لاہور،، شفاء انٹرنیشنل، اسلام آباد اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے فوکل پرسنز کو ڈریپ میں فارما کوویجلینس سنٹر کی ترقی کیلئے تربیت دینا ہے۔

اس تربیت کا پہلا ہدف اُپسالا سویڈن میں ڈبلیو ایچ او فارماکوویجلینس مرکز کی مکمل رکنیت حاصل کرنا ہے ۔ڈریپ کے سی ای او نے اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر سولی فانورانگ اور ڈاکٹر رشیدہ سلیمانی جو کہ فارما کوویجیلینس (پی وی )کے بین الاقوامی ماہرین ہیں اور صوبائی ڈرگ کنٹرول یونٹس اور پبلک ہیلتھ پروگرام کے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ڈریپ ایکٹ 2012ء کے آتے ساتھ ہی فارمیسی سروسز ڈویژن میں پی وی سیکشن کا قیام عمل میں لایا گیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کی ڈریپ ادویات کے اعلیٰ ترین معیار، حفاظت اور افادیت تک رسائی اور کم قیمت پر علاج کو اپنی اعلیٰ ترجیحات میں رکھتا ہے۔

پی وی سکیشن نے صحت کی دیکھ بھال سے منسلک پیشہ ورافراد، مریضوں کو صارفین اور طبی سامان کے مینوفیکچرز /طبی سامان کے درآمد اور پی وی قواعدکی ہدایات اور آن لائن رپورٹنگ فارم تیار کر رکھا ہے اوراس کو قا نونی حیثیت فراہم کرنے کیلئے فارما کوویجیلینس (پی وی) رولز2018ء تیاری کے مراحل میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نیشنل ہیلتھ وژن (2016-2025) وفاقی سطح پر پی وی سنٹر کے قیام اور صوبائی سطحوں پر ادویات کے مضر اثرات کی رپورٹس جمع کرنے پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے شرکاء سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انتہائی تجربہ کار ماہرین جیسے ڈاکٹر سولی پانووئولنگ اور اور ڈاکٹر راشدہ سلیمانی سے پی وی بارے افادہ حاصل کریں چونکہ آپ لوگوں ہی نے فارما کوویجیلینس (PV) کو مستقبل میں چلانا اور صوبائی سطح پر افراد کو تربیت دینی ہے ڈاکٹر سولی فانورانگ، ڈاکٹر رشیدہ سلیمانی اور یو ایس پی کے نمائندے خالد سعید بخاری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پی وی مراکز کو ادویات کے مضر اثرات کی رپورٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ رپورٹ کا تجزیہ کیسے ہوگا اور ڈبلیو ایچ اور کے پی وی سنٹراپسا لاسویڈن کورپورٹ کیسے بھجوائی جائیں گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی وی ایک سائنس ہے جو ادویات سے متعلقہ منفی واقعات کا پتہ لگانے اور ان کا اندازہ لگانے کی تربیت ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایک اچھا آغاز ہے۔ خالد سعید نے پی وی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اگرپی وی سسٹم مربوط انداز میں کام کر رہا ہوتا تو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ٹائینوکف سیرپ کے مضر اثرات اپنے ابتدائی مراحل میں ہی دریافت ہو جاتے۔ انہوں نے سی ای اور ڈریپ کو ادارے میں بہترین ماحول فراہم کرنے پر سراہا۔