اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکی سفارت کار کرنل جوزف کیخلاف کارروائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 16:31

اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکی سفارت کار کرنل جوزف کیخلاف کارروائی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 مئی۔2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عتیق بیگ ٹریفک حادثہ ہلاکت کیس میں امریکی سفارت کار کرنل جوزف کیخلاف کارروائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے شہری عتیق بیگ کی ہلاکت کے معاملےپر کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے کیس پر سماعت ہوئی۔

کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کی، اس سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے ڈپٹی سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا ایک سفیر کی سزا کا طریقہ کار عدالت کو بتایا جائے،یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جرم بھی ہو اور سزا بھی نہ ہو۔جس پر وکیل مرزا شہزاد کا کہنا تھا امریکا اجازت دے تو پاکستان میں جرم کا ٹرائل شروع کیا جا سکتا ہے،دوسری صورت میں امریکا میں بھی جرم کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈپلومیٹ کیخلاف کارروائی کاعمل جنیوا کنونشن کے تحت بتایا جائے ،ڈپلومیٹ کے حقوق ہیں تو پاکستانیوں کے بھی حقوق ہیں ،وزارت خارجہ نے عدالتی حکم پرعمل کرنے کا یقین دلادیا۔مرحوم عتیق کے والد کا موقف تھا کہ عدالت حکومت کو امریکی سفارتکار کرنل جوزف کیخلاف کارروائی کا حکم دے،سفارتی استثنا ختم نہیں ہوسکتا تو امریکی حکومت کرنل جوزف کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔یاد رہے کہ 07 اپریل کواسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی، جس سے موٹر سائیکل پر سوار22 سالہ عتیق بیگ ہلاک جبکہ اس کا دوست راحیل زخمی ہو گیا تھا۔ 24اپریل کواسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وزارت داخلہ نے کرنل جوزف کانام بلیک لسٹ میں شامل کرلیا تھا-بلیک لسٹ میں نام شامل ہونے سے امریکی سفارت خانے کے دفاعی اتاشی پاکستان نہیں چھوڑ سکتے، کرنل جوزف کو سفارتی استثنا حاصل ہے اس لیے ان کی گرفتاری ہوسکتی ہے اور نہ ہی ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

آفیشل ڈیوٹی کے دوران حادثے کی صورت میں ویانا کنونشن سفارتکاروں کو استثنی دیتا ہے جب کہ سفارتکار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنا طویل عمل ہے۔تاہم اگر کوئی سفارتکار اپنا استثنی واپس لے لیتا ہے تو پھر ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔