اصغرخان کیس پرنظرثانی درخواستیں مسترد،جنرل (ر)اسلم بیگ کا واویلا

بطورآرمی چیف کوئی حکم دیا اورنہ ہی کوئی ایسا کام کیاجوادارے کیخلاف ہو،مجھےاس کام سےکچھ نہیں ملنا تھا،میں نے ذمہ داریوں سے پہلو تہی بھی نہیں کی۔ جنرل (ر)اسلم بیگ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 17:03

اصغرخان کیس پرنظرثانی درخواستیں مسترد،جنرل (ر)اسلم بیگ کا واویلا
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 مئی 2018ء) : سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس دوبارہ کھلنے اور نظرثانی درخواستیں مسترد ہونے پرجنرل (ر)اسلم بیگ نے واویلا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جوادارے کیخلاف ہو، مجھے اس کام سے کچھ نہیں ملنا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اصغر خان کیس پرنظرثانی کیلئے جنرل ر اسلم بیک اور اسد درانی نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

جن کوسپریم کورٹ نے مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں مسترد ہونے پرجنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے کہا کہ میں نے ادارے کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کی۔ایسا کوئی کام نہیں کیا جوادارے کیخلاف ہو۔ بطورآرمی چیف کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ مجھے اس کام سے کچھ نہیں ملنا بھی تھا۔ واضح رہے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ عدالت نے فیصلے پرعملدرآمد کیلئے اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل سماعت پرطلب بھی کرلیا ہے۔۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیے کہ آج رات کوہی سماعت رکھنا چاہتے تھے۔رات گئے سماعت شروع ہوئی توکافی دیر ہوجائے گی۔۔عدالت نے کہا کہ سینئرکے غیرقانونی اقدام کوماننے بارے آئین میں کیا لکھا ہے؟ سینئر افسر کہے کہ کسی کوبغیرٹرائل قتل کردو توکیا قتل کردو گے؟ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کرسکتا۔

اس موقع پرجسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ فوج اور اس کی چین کمانڈ کی توہین نہ کریں۔واضح رہے اصغر خان کیس کو سپریم کورٹ نے دربارہ کھول دیا ہے۔ جس پرجنرل ر اسلم بیک اور اسد درانی نے سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس پرنظرثانی کیلئے درخواستیں دائر کی تھیں۔تاہم سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں نظرثانی کی دائر درخواستیں مستردکرتے ہوئے کیس پرعملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔۔عدالت نے اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کوکل سپریم کورٹ میں طلبی کا نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔