بجٹ میں کنسٹریکشن انڈسٹری کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے،عارف جیوا

حکومت تعاون کرے تو کنسٹریکشن انڈسٹری جی ڈی پی میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہے، محسن شیخانی حکومت ترجیحی بنیادوں پرکنسٹریکشن انڈسٹری کے مسائل حل کرے،شیخ عامر وحید

پیر مئی 18:32

بجٹ میں کنسٹریکشن انڈسٹری کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے ایک وفد نے چیئرمین عارف جیوا اور سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور چیمبر کے صدر شیخ عامر وحید، سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا سمیت مقامی تاجر برادری کے ساتھ کنسٹریکشن انڈسٹری کے بہتر فروغ کیلئے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آباد کے چیئرمین عارف جیوا نے کہا کہ کنسٹریکشن انڈسٹری معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے لیکن حکومت نے نئے بجٹ میں اس انڈسٹری کی ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جس سے اس شعبے کی بزنس کمیونٹی کو مایوسی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگر حکومت کنسٹریکشن انڈسٹری کیلئے سازگار پالیسیاں تشکیل دے تو یہ انڈسٹری پاکستان کے جی ڈی پی میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ معیشت کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر کنسٹریکشن انڈسٹری کی مشاورت سے ٹیکس سمیت دیگر پالیسیوں میں ضروری اصلاحات لا نے کی کوشش کرے۔آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہتر پالیسیوں کی وجہ سے ویت نام جیسا چھوٹا ملک سالانہ 246ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش کی برآمدات بھی 33ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں لیکن پاکستان میں پالیسیوں میں عد م استحکام کی وجہ سے ہماری برآمدات تنزل کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کنسٹریکشن انڈسٹری پر بہتر توجہ دے اور اس کیلئے سازگار پالیسیاں بنائے تو اس سے وابستہ دیگر صنعتوں کو بھی بہتر ترقی ملے گی جس سے پاکستان کے ریونیو اور برآمدات میں بہتری آئے گی۔انہوںنے کہا کہ ملک سے گھروں کی قلت کو کم کرنے کیلئے پاکستان میں ہر سال 8لاکھ گھر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کے حصول کیلئے کنسٹریکشن انڈسٹری کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے اور عوام کو گھر خریدنے کیلئے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید نے کہا کہ کنسٹریکشن انڈسٹری سے تقریبا 40سے زائد دیگر صنعتوں کی ترقی وابستہ ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم انڈسٹری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کرے جس سے دیگر صنعتیں بھی بہتر فروغ پائیں گی اور معیشت مستحکم ہو گی۔

انہوںنے اسلام آباد میں کامیاب ایکسپو منعقد کرنے پر آباد کے چیئرمین اور ان کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس ایکسپو کے انعقاد سے پاکستان کا سافٹ امیج بہتر ہوا ہے کیونکہ اس میں بہت سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ آباد اب ایک برانڈ بن چکا ہے جو مقامی اور عالمی سطح پر پاکستان کی بہتر نمائندگی کرتا ہے۔

انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ چیمبر رئیل اسٹیٹ اور کنسٹریکشن انڈسٹری کے مسائل کو حل کرانے میں آباد کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر محمد نوید ملک، نائب صدر نثار مرزا، عبدالرئوف عالم، میاں اکرم فرید، عنایب اللہ مرزا، ظفر بختاوری، میاں شوکت مسعود، محمد اعجاز عباسی، چوہدری زاہد رفیق اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور حکومت سے کنسٹریکشن انڈسٹری کے مسائل کو جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا اور ایف بی آر کنسٹریکشن انڈسٹری کے مفاد کے خلاف کوئی بھی اقدامات اٹھانے سے گریز کرے تا کہ یہ صنعت پاکستان کی معاشی ترقی میں مزید فعال کردار ادا کر سکے۔