الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں ضلع کچھی کی تاریخی ،جغرافیائی حیثیت کو مسخ کیا گیا ہے، علی احمد رند

پیر مئی 18:32

بولان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) رند قومی اتحاد ضلع کچھی کے صدر وڈیرہ علی احمد رند،نصیر آباد ڈویژن کے صدر حاجی ریاض رند،صدرتحصیل ڈھاڈر میر حاجی خان جتوئی،سید نواب شاہ ،بابل براہمانی،عبدالحئی گولہ نے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں ضلع کچھی کی تاریخی ،جغرافیائی حیثیت کو مسخ کیا گیا ہے ضلع مستونگ کی تحصیل دشت کو ضلع کچھی میں ضم اور تحصیل سنی ،شوران کو ضلع جھل مگسی میںضم کرنے کا فیصلہ زمینی حقائق کے برعکس ہے جسکی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ضلع کچھی کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے اس سے عوام میں غم غصہ پایا جاتا ہے فیصلے سے ضلع کی عوام کا استحصال ہوگا فیصلہ سازوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر عوام کی رائے سلب کرکے اپنا فیصلہ تھونپا ہے جسے مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ضلع کچھی کی نشت پر جو فیصلہ سنایا ہے اس سے یہاں کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی مترادف ہے جو ایک منصوبے کے تحت بنایا گیا ہے ضلع کو چار حصوں میں بانٹ کرعوامی رائے کا گلہ گھونٹا گیا ہے جو یہاں کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان فیصلہ پر نظر ثانی کرکے ضلع کچھی کی سابق صوبائی، قومی اسمبلی کی نشت کا فیصلہ برقرار رکھے بصورت دیگر عوام کی رائے کے فیصلے کے خلاف رند قومی اتحاد ہر فورم پر بھرپور احتجاج کریگی اور عدالت سے بھی رجوع کیا جائیگا۔