حکومت سندھ نے ہمارے جلسے میں مداخلت کی تو احتجاج پر مجبور ہوں گے ،ڈاکٹرعارف علوی

پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی،انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس

پیر مئی 18:37

حکومت سندھ نے ہمارے جلسے میں مداخلت کی تو احتجاج پر مجبور ہوں گے ،ڈاکٹرعارف ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ ہے جہاں ہمارا کیمپ لگ چکا ہے۔ حکومت اس میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ میں سندھ حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ پروگرام وہیں ہوگا کیونکہ وہاں پہلے بھی پروگرام ہوتے رہے ہیں۔ ہمیں نہ روکا جائے کیونکہ اگر روکا جائے گا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیر کو انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر حلیم عادل شیخ اورصدر منارٹی ونگ، پی ٹی آئی سندھ جے پرکاش نے پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر ڈپٹی جنرل سیکریٹری پاکستان تحریک انصاف سندھ ایوب شر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ جب پاکستان بن گیا تو اقلیتیں اپنے مذہب کے اعتبار سے چاہے الگ الگ رہیں اور اپنے اپنے مذہب کی الگ الگ عبادات کریں لیکن ریاست کے لیے سب برابر ہیں۔

چیئرمین عمران خان نے یہ بات کہی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔ ہم تعصب کی بنیاد پر اقلیتوں سے زیادتی کرنے کے خلاف ہیں۔ جہاں بھی اقلیتوں سے زیادتی ہوگی، ہم اس کے خلاف کھڑے رہیں گے۔ میرے دائیں طرف ڈاکٹر مہر چند بیٹھے ہیں جو سولہ سال پاکستان پیپلز پارٹی ، منارٹی ونگ کے جنرل سیکریٹری رہے ہیں۔

آج انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ منارٹیز کے اعتبار سے انہیں جو اطمینان حاصل ہونا چاہئے تھا ، وہ پیپلز پارٹی سے حاصل نہیں ہوا۔ ہم انہیں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ بارہ مئی کو کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ ہے جہاں ہمارا کیمپ لگ چکا ہے۔ حکومت اس میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ جب ہم ایک دن کا سیاسی پروگرام حکیم سعید شہید گرائونڈ میں کرنا چاہتے ہیں تو پولیس وہاں پہنچ گئی کہ ہم آپ کو نہیں کرنے دیں گے۔

میں سندھ حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ پروگرام وہیں ہوگا کیونکہ وہاں پہلے بھی پروگرام ہوتے رہے ہیں۔ ہمیں نہ روکا جائے کیونکہ اگر روکا جائے گا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے اور ٹریفک بلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر وہاں سے ہٹایا گیا تو ہم سڑک پر بھی پروگرام کرسکتے ہیں لیکن اس سے عوام الناس کو تکلیف بہت ہوگی۔ بہت بڑا پروگرام ہوگا اور یہ پروگرام کراچی کو جوڑنے کا ہے۔

متحدہ اردو بولنے والوں کا مہاجر کارڈ اور پیپلز پارٹی اس کے ردِ عمل میں سندھی بولنے والوں کا کارڈ چلانا چاہتی ہے ۔ ہم سب سندھ کے رہنے والے ہیں ۔ ہم سب کو عمران خان اکٹھا کرے گا۔ الگ الگ منافرت بڑھا کر یہ لوگ ووٹ لے کر لڑائیاں کرواتے ہیں اور سندھ میں ترقی نہیں ہوتی اور کراچی ، سکھر اور حیدر آباد کی بد حالی بڑھ جاتی ہے۔ سینئر رہنما حلیم عادل شیخ نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں کہا کہ میں ڈاکٹر مہر چند کو پاکستان تحریک انصاف میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

جس طرح سولہ سال سے یہ پیپلز پارٹی میں تھے لیکن انہوں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑا ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی سے تمام ہی لوگ چھوڑنا چاہتے ہیں، صرف پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم مظلومیت اور پیپلز پارٹی نفرت کی سیاست میں دوبارہ آنا چاہتی ہے۔ یہ لوگ وہی دنگا فساد کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں پارٹیاں ٹنکی گرائونڈ تک نہیں بھر سکیں۔

نفرت کی بنیاد پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے نفرت کے نعروں سے یہاں کتنے ہی نوجوانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ عزیر بلوچ کا پیپلز پارٹی سے ہی تعلق تھا۔ پیپلز پارٹی نے بھی کراچی میں قتل و غارت کی ہے۔ قتل و غارت سے شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کراچی کے عوام نے نفرت اور قتل و غارت کی سیاست کو رد کردیا ہے۔ بارہ مئی ایک خوف کی علامت ہے۔

ہم اس بار بارہ مئی کو گلاب کے پھول لے کر آرہے ہیں۔ ہم اس شہر کی سڑکوں کو گلاب کے پھولوں سے لال کریں گے۔ میں نے اور علی زیدی نے اپنی ویڈیو پیپلز پارٹی سے پہلے شیئر کی تھی جس میں ہم نے کہا تھا کہ ہم حکیم سعید شہید گرائونڈ میں جلسہ کریں گے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہفتے کے دن کون سے دفاتر کھلے ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس امن کی فضا کو سبوتاژ اور جھگڑا کرنا چاہتی ہے۔

گو کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس کوئی عزیر بلوچ یا ٹارگٹ کلر نہیں لیکن ہم امن اور محبت کا پیغام لا رہے ہیں۔ ہم نے حکیم سعید شہید گرائونڈ پر جلسے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ پرائیویٹ جگہ ہے۔ گلشن اقبال کے عوام نے ہمیں وہاں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہمیں خوش آمدید کہہ دیا ہے۔ آپ اسی جگہ کیوں جلسہ کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم نے اعلان کیا تھا۔

آپ ناکام ہوچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا سندھ سے صفایا ہوچکا ہے۔ عید کے بعد مزارِ قائد پر بہت بڑا جلسہ عام ہوگا۔ پیپلز پارٹی دہشت گردانہ طرزِ حکومت سے باز آجائے۔ اس موقعے پر صدر منارٹی ونگ، جے پرکاش نے اپنے خطاب میں کہا کہ سولہ سال پیپلز پارٹی میں رہنے والے ڈاکٹر مہر چند پیپلز پارٹی سے آج مطمئن نہیں رہے۔ آج چیئرمین عمران خان کے نظرئیے کو قبول کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

میں ان کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ بارہ مئی کے جلسے میں اقلیتی کمیونٹی بھرپور طریقے سے چیئرمین عمران خان کا ساتھ دے گی۔ قائد اعظم کا جو ویژن تھا، وہی چیئرمین عمران خان لے کر چل رہے ہیں۔ اسی نظرئیے کو ڈاکٹر مہر چند نے قبول کیا، ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس موقعے پر ڈاکٹر مہر چند کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے پچیس سال پیپلز پارٹی کے نظرئیے کو دئیے ہیں۔

اپنی ساری جوانی قربان کردی۔ سولہ سال بینظیر صاحبہ کے حکم پر مجھے جنرل سیکریٹری منارٹی ونگ بنایا گیا اور میں نے اپنی پوری کوششوں سے جتنا مجھ سے ہوسکا، میں نے اپنی قائد کے لیے قائم کیا۔ میں خود کو منارٹی کہتے ہوئے قباحت محسوس کرتا ہوں ۔ میں مذہبی اعتبار سے منارٹی ضرور ہوں لیکن بطور پاکستانی شہری میں منارٹی پر یقین نہیں رکھتا اور یہی نظریہ مجھے عمران خان کی تقریر میں دکھائی دیا ۔

اس لیے میں آج پیپلز پارٹی کو خدا حافظ کہہ رہا ہوں کیونکہ جو پیپلز پارٹی کا نظریہ تھا اور جو عہد ہم نے اپنی قائد سے کیے تھے، آج پیپلز پارٹی اس عہد پر قائم نظر نہیں آتی۔ میں نے ساری زندگی پیپلز پارٹی کو دی ہے لیکن مجھے بدعنوانی سے پاک سندھ اور پاکستان چاہئے۔ مجھے مساوات سے بھرپور پاکستان چاہئے جہاں دہشت گردی اور بدعنوانی نہ ہو اور ہم اپنے ایمان کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں رہ سکیں۔

مجھے دو نہیں ایک پاکستان کے نظرئیے نے متاثر کیا ہے ۔ میں آج اس پارٹی میں شمولیت اختیار کر تا ہوں ۔ اپنی طرف سے میں بھرپور کوشش کروں گا کہ میں اپنے قائد کے نظرئیے کو پورے سندھ اور پاکستان میں پھیلائوں۔ جو میری قیادت مجھے حکم دے گی، میں اس پر کام کروں گا۔ مجھے مستقبل کا وزیر اعظم عمران خان نظر آتا ہے۔