سپریم کورٹ نے نااہلی کیخلاف دائرخواجہ آصف کی استدعاکو قابل سماعت قرار دیتے ہو ئے منظور کرلی ،ْ

فریقین کو نوٹسزجاری 2012 کے گوشواروں میں بھی تنخواہ کا ذکر ہے ،کاغذات نامزدگی میں 6اعشاریہ 82 ملین غیرملکی زرمبادلہ ظاہرکیاگیا ،ْوکیل خواجہ آصف خواجہ آصف نے غیر ملکی تنخواہ ظاہر نہیں کی ،ْ جسٹس سجاد علی شاہ ………خرچ کردہ رقم اثاثہ نہیں ہوتی ،ْ وکیل خواجہ آصف

پیر مئی 19:01

سپریم کورٹ نے نااہلی کیخلاف دائرخواجہ آصف کی استدعاکو قابل سماعت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے نااہلی کیخلاف دائرخواجہ آصف کی استدعاکو قابل سماعت قرار دیکر منظور کر تے ہوئے فریقین کو نوٹسزجاری کردیئے ۔ پیر کو سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خواجہ آصف نااہلی فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی اور فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس میں تحریری معروضات جمع کروائیں۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ خواجہ آصف کی نااہلی تین نکات پر ہوئی جس پر خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ جی ہاں ان کے موکل پر اقامہ رکھنے، تنخواہ اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کو انتخابات کیلئے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کرنا ہے۔

(جاری ہے)

منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ دبئی کے نجی بینک میں خواجہ آصف کے اکاؤنٹ میں کبھی کوئی ترسیل نہیں ہوئی بلکہ یہ اکاؤنٹ 7 جولائی 2015 میں بند کردیا گیا تھا۔

انہوںنے کہاکہ کاغذات نامزدگی میں خواجہ آصف سے 3 سال کے انکم ٹیکس کی ادائیگی کا پوچھا گیا تھا جس میں انہوں نے اس حوالے سے ٹیکس گوشوارے منسلک کر دئیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ 2012 کے گوشواروں میں تنخواہ کا بھی ذکر ہے ،ْ68 لاکھ 20 ہزار روپے غیر ملکی زرِمبادلہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ خواجہ آصف نے بیرونِ ملک ریسٹورنٹ کی بیچی گئی رقم ظاہر نہیں کی جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ 68 لاکھ 20 ہزار روپے لیگی رہنما کی تنخواہ اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ریسٹورنٹ کی بیچی گئی رقوم ہی تھیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ خواجہ آصف نے غیر ملکی تنخواہ ظاہر نہیں کی جس پر لیگی رہنما کے وکیل کا کہنا تھا کہ خرچ کردہ رقم اثاثہ نہیں ہوتی۔خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ان کے موکل کے خلاف انتخابی عذرداری درخواست میں غیر ملکی تنخواہ کا ذکر نہیں کیا گیا ،ْ 2013 میں خواجہ آصف کے خلاف پٹیشن میں تنخواہ کو دفاع کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ مفاد کے ٹکراؤ سے متعلق ہے، لہٰذا اسے کاروبار نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ اسے پاناما کیس کے تناظر میں پیش کیا جائے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 42 کی خلاف ورزی پر کیا کہیں گی ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ کو ڈبے میں نہیں رکھا جاسکتا ،ْتنخواہ کو جس اکاؤنٹ میں رکھا گیا وہ اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا گیا۔

خواجہ آصف کے وکیل نے کہا اکاؤنٹ ظاہر کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹی کی جانب سے نااہلی فیصلہ اثاثوں کی بنیاد پر آیا ،ْ ریاست کے کسی ادارے میں کرپشن یا پھر آف شور کمپنی رکھنے کا الزام نہیں ہے۔اس موقع پر خواجہ آصف نااہلی کیس کے درخواست گزار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے وکیل بشیر مہمند نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے 2011 سے اب تک کی تنخواہ ظاہر نہیں کی بلکہ اسے چھپائے رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے کل وقتی ملازمت سے حاصل آمدن ظاہر نہیں کی بس صرف اپنی تنخواہ کا ذکر کیا ہے۔عثمان ڈار کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکیل خواجہ آصف کے خلاف پٹیشن میں تنخواہ کا معاملہ لاعلمی کے باعث نہیں اٹھایا جس پر جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ حکومتی عہدیدار کے اثاثے مکمل شفاف ہونے چاہئیں۔

سماعت کے دوران منیر اے ملک نے درخواست جمع کرائی جس میں استدعا کی گئی کہ خواجہ ا?صف کو وزیرِ خارجہ کے عہدے پر بحال کیا جائے۔۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما کی درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابات سے قبل ظاہر نہیں کیں اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے مستحق نہیں۔بعد ازاں 26 اپریل 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا۔دو مئی کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے اپنی نااہلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔