مقبوضہ کشمیر، شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت، ہڑتال سے نظام زندگی مفلوج

پیر مئی 19:07

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںشہید کشمیری نوجوانوں صدام حسین پڈر اور بلال احمد کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔دونوںنوجوانوں کو دیگرآٹھ کشمیریوںکے ہمراہ گزشتہ روزبھارتی فوجیوںنے شوپیاں میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران فائرنگ کر کے شہید کردیاتھا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے شہید نوجوانوں کی متعدد بار نماز جنازہ ادا کی گئی۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق دونوں شہداء کی نماز جنازہ 18مرتبہ ادا کی گئی اور ہرمرتبہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مجاہدین کے ایک گروپ نے نمودار ہوکر ہوا میں فائرنگ کرکے شہداء کو سلام پیش کیا۔ کشمیر یونیورسٹی کے سینکڑوں طلباء نے سرینگر میں علامہ اقبال لائبریری کے باہر جمع ہو کر یونیورسٹی کے شہیدپروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ۔

(جاری ہے)

حریت رہنمائوں اور تنظیموں بشمول محمد یاسین ملک ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور مولانا عباس انصاری نے بھی شوپیاں میں نوجوانوںکے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قراردیا۔ادھر کٹھ پتلی انتظامیہ نے شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دس نوجوانوں کے قتل کے خلاف سول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کو ناکام بنانے کیلئے سرینگر اوروادی کشمیر کے مختلف حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر دیں۔

مارچ اور دھر نے کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ میر واعظ عمر فاروق نے جو گھر میں نظربند تھے ،باہر نکل کر مارچ کرنے کی کوشش کی ۔ تاہم بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر کے نگین پولیس اسٹیشن سرینگر میں نظربند کردیا۔ مشترکہ حریت قیادت نے اعلان کیا ہے کہ ضلع شوپیاں میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف کل بھی ہڑتال جاری رہے گی۔سید علی گیلانی،، محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنمائوں کو مسلسل گھروں اور جیلوں میں نظربند رکھا گیا۔

کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینو فیکچررز فیڈریشن سے وابستہ تاجروںنے آبی گزر میں جمع ہوکر سول سیکرٹریٹ کی طرف مارچ کی کوشش کی لیکن بھارتی پولیس نے انہیں ریذیڈنسی روڈ پرہی روک دیا۔ ادھر نوجوانوں کی شہادت پر آج مکمل ہڑتال کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی مفلوج ہوکررہ گئے ۔ علاقے میں تمام دکانیں ، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند جبکہ امتحانات ملتوی کئے گئے۔

علاقے میں انٹر نیٹ اور ٹرین سروسز معطل رہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کی آبروریزی اور قتل کا کیس سماعت کے لیے مقبوضہ علاقے سے بھارتی پنجاب کے علاقے پٹھانکوٹ منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکم دیا کہ کیس کی سماعت ان کیمر ا ہونی چاہیے۔ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار نے سرینگر ائرپورٹ کے نزدیک ہمہامہ کے علاقے میں قائم کیمپ میں اپنی سروس رائفل سے گولی چلاکر خود کشی کرلی ہے۔ اس واقعے سے جنوری 2007ء سے مقبوضہ علاقے میں خوکشی کرنے والے بھارتی فوجی اور پولیس اہلکاروں کی تعداد 400ہوگئی ہے۔