صوابی ‘ ڈی ایچ او سمیت ٹوپی ہسپتال کے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

پیر مئی 19:26

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) صوابی کے رہائشی محمد اسرار نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو شدید زخمی حالت کے باوجود طبی امداد کی عدم دستیابی پر ڈاکٹروں اور مجاز حکام کے خلاف کاروائی کرکے مجھے انصاف فراہم کیا جائے ، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چند مسلح غنڈے اُن کے گھر واقع بٹاکڑہ ٹوپی مسلم آباد میں داخل ہوکر اُن پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا ،بعدازاں اپنے بھائی محمد جاوید کو اطلاع دینے پر ٹوپی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ کر مجھے ہسپتال منتقل کردیا اور مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ،ٹوپی ہسپتال منتقل ہونے پر ڈاکٹروں نے کہا کہ ایکسرے مشین خراب پڑے ہیں جس پر ہم نے صوابی ہسپتال ریفر کرنے کی استدعا کی تو عملہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا ، انہوں نے کہا کہ مسلسل خون بہنے کے دوران ڈی ایچ او صوابی سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے انتظار کرنے کا کہا ،ہسپتال لے جانے کیلئے ہمیں ایمبولینس کی اشد ضرورت تھی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ انچارج ڈاکٹر شاہ عابد کے ذاتی استعمال میں ہے پھر ڈیڑھ گھنٹے بعد پولیس موبائل گاڑی میں صوابی ہسپتال پہنچایا گیا ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹال مٹول سے کام چلانے ،ایمبولینس اور ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کے عدم دستیابی پر ڈی ایچ او سمیت ٹوپی ہسپتال کے ڈاکٹروں کے خلاف انکوائری کرکے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔