بائے بیک اسکیم سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شدید تشویش ،نا قابل عمل قرار دے دیا

پیر مئی 19:41

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وفاقی حکومت کی جانب سے پراپرٹی کو خریدنے (بائے بیک) اسکیم کے اعلان سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کی بائے بیک اسکیم کے مطابق یکم جولائی 2017کے بعد حکومت کو اس بات کا اختیا ر ہو گا کہ وہ رجسٹری قیمت سے 100فیصد یا ڈبل قیمت پر کوئی بھی پراپرٹی خرید لے ۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کی اس اسکیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نا قابل عمل قرار دیا ہے ۔

اسٹیک ہولڈرز کا کہنا کہ اس سے ملک میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں ہونے والی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کو دھچکہ پہنچے گا ۔اس ضمن میںپاکستان رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے جنرل سیکریٹری شعبان الہی کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ کو لکھے گئے خط میںکہا گیا ہے کہ سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس نے پہلے ہی اس اسکیم کو مسترد کر دیا جس کی بنیادی وجہ اس اسکیم میں قانونی سقم ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 24حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ رجسٹری قیمت کی بنیاد پر کسی بھی شہری سے زمین خرید لے۔ اس لئے اس اسکیم کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ بائے بیک اسکیم پر نظر ثانی کرے تا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں جاری بے چینی کو ختم کیا جاسکے۔شعبان الہی نے کہ کہا ہے اس اسکیم کے ذریعے سرکاری ملازمین کو دی جانے والے اختیارات سے خریداروں اور فروخت کنندگان کو ہراساں کئے جانے کے امکانات بھی جس سے سرمایہ کاری متاثر ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 4ملین سے زائد ویلیو کی پراپرٹی خریدنے کے لئے بھی فائلر ہونے کی شرط عائد کر دی گئی ہے جس سے براہ راست بیرو ن ملک مقیم پاکستانی متاثر ہوں گے کیونکہ بیشتر بیرون مقیم پاکستانی نان فائلر ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ حکومت نیشنل آدینٹی کارڈ فاراوور سیز پاکستانیز (NICOP) کو فائلر کا درجہ دے کر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دے دی جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ تعطل کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے خط میں کہا ہے تمام رئیل اسٹیٹ اسٹیک ہولڈرز اس بات پر بھی متفق ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی پراپرٹی ویلیشن مارکیٹ کے مطابق ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں ڈی سی ویلیوشن میں سالانہ15فیصد اضافی کیا جائے اور سیکشن 236Wکے اپر کیپ کو بھی ختم کر دیا جائے۔ایف بی آر ویلیوشن کی کوریج کو بھی 21شہروں تک بڑھایا جائے ۔شعبان نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرز پر پراپرٹی کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک الگ اتھارٹی قائم کی جائے جو کہ براہ راست رئیل اسٹیٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے ۔

انہو ں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے ڈی سی ویلیو ختم کرنے اور ٹیکس ریٹ کم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر صوبوں نے ابھی تک ڈی سی ویلیو شن ختم نہیںکی۔شعبان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پراپرٹی سے متعلق معاملات کو جلداز جلد حل کرے تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے ۔

متعلقہ عنوان :