سپریم کورٹ ، اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق نظر ثانی درخواستیں مسترد ،

فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

پیر مئی 19:45

سپریم کورٹ ، اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق نظر ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق نظر ثانی درخواستیں مسترد کردیں ۔پیر کو چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔۔سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان سے استفسار کیا کہ اصغر خان کیس کا فیصلہ اکتوبر 2012 میں آیا، اتنا وقت گزرنے کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق معلوم کرنے کے لیے 2 دن کا وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دو دن نہیں رات ساڑھے 10 بجے تک معلوم کر کے عدالت کو آگاہ کریں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے نظر ثانی درخواستیں منظور کیں تو فیصلہ کالعدم ہوجائے گا، عدالت فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والوں پر ذمے داری کا تعین بھی کرے گی۔

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جو ادارے کے خلاف ہو، بطور آرمی چیف کوئی حکم نہیں دیا تھا، پیسوں کی تقسیم سے مجھے کچھ نہیں ملنا تھا، میں نے ادارے کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کی۔۔مرزا اسلم بیگ نے مزید کہا کہ یونس حبیب سندھ رجمنٹ سینٹر کا کنٹریکٹر تھا جس نے رجمنٹ سینٹر کو مسجد عطیہ کی اور اس کے علاوہ یونس حبیب سے کوئی بات نہیں ہوئی۔۔سپریم کورٹ نے مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کی نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔