قومی اسمبلی اجلاس، تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان کی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی مذمت

پیر مئی 20:08

قومی اسمبلی اجلاس، تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان کی وزیر داخلہ احسن ..
اسلام آباد۔ 07 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرکے اصل محرکات کو منظر عام پر لایا جائے‘ یہ حملہ وزیر داخلہ پر نہیں بلکہ ریاست پر حملہ ہے‘ ارکان اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سپیکر تمام صوبوں کو خط لکھیں اور ہمارے اسلحہ لائسنسوں پر عائد پابندی ختم کی جائے۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی احسن اقبال کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ مارنے والے سے بچانے والا بہت بڑا ہے۔ اللہ نے خاص کرم کیا ہے۔

(جاری ہے)

حملہ آور کے پیچھے کون ہے اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں عبدالمنان نے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

ہم سب کو سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوکر اس حوالے سے سوچنا ہوگا۔ سپیکر ایوان کی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرائیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی اپنی جماعت کی طرف سے احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ معاشرے کا بڑا المیہ یہ ہے کہ برداشت ختم ہوگئی ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کو کسی مدرسے یا مذہب سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں‘ ان حالات میں ایسے واقعات کا مرتکب ہونا لمحہ فکریہ ہے، سیاسی اکابرین سے واپس لی گئی سیکیورٹی انہیں دوبارہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر داخلہ پر حملہ نہیں ریاست پر حملہ ہے۔ سپیکر تمام ارکان اسمبلی کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے صوبوں کو خط لکھیں۔ ایم کیو ایم کے رکن شیخ صلاح الدین نے بھی احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اللہ نے وزیر داخلہ کی جان بچائی ہے‘ ہم دعاگو ہیں کہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو کر ایوان میں واپس آئیں۔

ایسی کارروائیاں کرنے والے فوری طور پر گرفتار ہونے چاہئیں۔ ایسا ماحول بنایا جائے کہ خاص افراد کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی تحفظ حاصل ہو۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے بھی وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ جب تک امن و امان کے مسئلے کی وجوہات تلاش نہیں کی جائیں گی مسائل رہیں گے۔ ہمیں بیروزگاری‘ غربت اور سودی نظام کے خاتمے کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی۔

ایسے واقعات کو مذہب سے نہ جوڑا جائے۔ تحقیقات کے بعد حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔ عبدالقہار ودان نے بھی واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے 22 کروڑ عوام کے وزیر داخلہ پر حملے کا فوری نوٹس لیں۔ سپیکر ایوان کی کمیٹی بھی بنا کر تحقیقات کرائیں۔ سید عیسیٰ نوری نے کہا کہ حملہ آور کا مقصد وزیر داخلہ کی زندگی کا خاتمہ تھا۔

اس حملے کی تحقیقات کرکے اصل محرکات تک پہنچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک ایسے واقعات کے ملزم پکڑے نہیں جاسکے۔ بلوچستان میں بھی سیاستدانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اہم شخصیات کی سیکیورٹی کا خاتمہ انہیں قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے۔ اسلحہ لائسنس پر پابندی کی وجہ سے بھی ہمیں اپنے تحفظ میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسلحہ لائسنسوں پر پابندی ختم کی جائے۔