کوئٹہ کوئلہ کان حادثہ ، شانگلہ میں دوسرے روز بھی فضاء سوگوار،علاقہ میں غم و افسوس کی لہر برقرار

نواز شریف کا کل دورہ شانگلہ بھی ملتوی

پیر مئی 20:15

الپوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) کوئٹہ کوئلہ کان حادثہ ، شانگلہ میں دوسرے روز بھی فضاء سوگوار۔علاقہ میں غم و افسوس کی لہر برقرار۔تاریخی سانحے نے شانگلہ کے ایک علاقے غوربند کو لرز دیا ہے ۔کئی گھر ویران ہوگئے ۔ جان بحق ہونے والوں میں سگے د و بھائیوں کی جان بحق ہونے سے گھر کا چھولا بندا ہوا ۔ اخری لمحات تک شانگلہ کے ہر انکھ اشکبار تھی ۔

تاریخی سانحے کی وجہ سے شانگلہ میں سیاسی سرگرمیاں بھی معطل ۔ مسلم لیگ کے سابق وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے کل بروز بدھ اپنا دورہ شانگلہ ورکر کنونشن کو بھی ملتوی کردیا ۔ کاروباری نظام بھی متاثر رہا ۔ ہفتے کے عصر بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والی23محنت کشوں کی جان بحق ہونے کے بعد ضلع شانگلہ کی فضاء بدستور دوسرے روز بھی سوگوار رہی، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اتوار اور پیر کے درمیانی شب میتوں کی شانگلہ پہنچانے کے وقت موجود تھے ،اجتماعی نماز جنازوں نے شانگلہ کو ہلا دیا ،تاریخ ساز سانحے نے شانگلہ میں تمام تر سرگرمیوں کو مفلوج کردیا ، شانگلہ میں یکے بعد دیگرے سانحوں نے عوام کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ، تعلیم کی کمی ، غربت کی شرح میں مسلسل اضافے سے شانگلہ کے غریب عوام کی ذہنوں کو مجبوراً کوئلے کے اس خطرناک کام کیلئے تیار کرتے ہیں جس میں جان کا خطرہ ہے ، یہ لوگ محسوس بھی کرتے ہیں تاہم کوئی دیگر چارہ نہیں ہوتا ، اس حوالے سے کوئٹہ بلوچستان حادثے میں جان بحق افراد کے ساتھ آنیوالے ایک کان کن سے تفصیلی طور پر ہمارے نمائندے نے بات کی تو انھوں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک لمحہ ہزاروں فٹ نیچے زمین میں یہ احساس ہوتا ہے کہ کب یہ چھتیں گرے گی یا گیس بھر کر دھماکہ ہوگا ، یہ واقعات اب ہماری مقدر بن چکی ہیں ۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ شانگلہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے ہر کوئلہ مائن میں شانگلہ کے مزدور ضرور ہوتا ہے ، اسی سروے میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ شانگلہ میں 65فیصد سے بھی زائد افراد کوئلے کے کانوں میں مزدور ہیں جو ایک المیہ ہے، اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کوئلہ کانوں میں مرنے والے افراد کے بعد ان کے بچے اور ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اپنی جانوں کی بازی لگا کر رزق حلال کمائی کیلئے ہزاروں فٹ نیچے کوئلے کے کانوں میں مزدوری کرکے اپنے بچوں کے پیٹ پالتے ہیں مگر شانگلہ میں ان کیلئے رجسٹریشن تک کی سہولت میسر نہیں ہوتی تو کہاں ہسپتال، کہاں سکول یا دیگر سہولیات ۔۔