کراچی،وزیراعلی سندھ نے حضرت لال شہباز قلندر کے عرس مبارک کے تیسرے اور اختتامی روزمزارپرچادرچڑھائی اوردعاکی

ہر سال حضرت لال شہباز قلندر کے عرس مبارک کے موقع پر پورے ملک ، سندھ اور دنیا کے دیگر ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دیتے ہیں،سندھ صوفیائ کرام کی دھرتی ہے، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو

پیر مئی 20:22

کراچی،وزیراعلی سندھ نے  حضرت لال شہباز قلندر کے عرس مبارک کے تیسرے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ حضرت لال شہباز قلندر کے عرس مبارک کے تیسرے اور اختتامی روزمزارپرچادرچڑہائی اوردعاکی،اس موقع پرصوبائی وزرائ منظور حسین وسان، فیاض علی بٹ ، معاون خصوصی برائے اوقاف سید غلام شاہ جیلانی، چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف منور علی مہیسر، ڈویزنل کمشنر حیدرآباد سعید احمد منگنیجو، ڈی آئی جی حیدرآباد جاوید عالم اوڈھو، ڈپٹی کمشنر جامشورو کیپٹن (ر) فرید الدین مصطفی، ایس ایس پی جامشورو پرویز احمد عمرانی، پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما رئیس امان اللہ خان شاہانی، سردار سکندر راہب پوٹو و دیگر بھی موجود تھے۔

بعد ازاں درگاہ کے احاطے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہر سال حضرت لال شہباز قلندر کے عرس مبارک کے موقع پر پورے ملک ، سندھ اور دنیا کے دیگر ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دیتے ہیں،،سندھ صوفیائ کرام کی دھرتی ہے، سہون کی سرزمین پر جو قدم رکھتا ہے وہ قلندری رنگ میں ڈھل جاتا ہے، عرس مبارک کے لئے بہترین انتظامات کئے گئے تھے جس کے سبب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، ہماری کوشش تھی کہ لاکھوں کی تعداد میں آنے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور اس حوالے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت سے رابطہ بھی کیا تھاتاہم اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کا عذاب جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ لال شہباز قلندر کی مزار پر دہشگردوں کے اندوہناک حملے کے بعد سیکیورٹی انتظامات سخت سے سخت کئے گئے تھے۔

(جاری ہے)

ایک سوال پر انہوں نے وفاقی وزیر داخلا احسن اقبال پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور پیپلز پارٹی ہی ملک کی واحد جماعت ہے جو دہشگردوں کے خلاف کھلم کھلا بات کرتی ہے، ہمارا کسی سے مقابلا نہیں کیونکہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں، نواز شریف اور عمران خان سے لوگ ناامید ہوچکے ہیں اور عوام کی امیدیں پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔

ایک سوال پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سہون میں پانی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور اس کے علاوہ منچھر جھیل کی بحالی کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عوام چاہتی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں جو عناصر انتخابات وقت پر نہیں چاہتے ان کو عوام خود ہی دیکھ لے گی، 10 مئی کوصوبہ سندھ کا 28-19 کا سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا جبکہ سپلیمینٹری بجٹ کے لئے اسمبلی سے منظور حاصل کی جائے گی، آئینی طور پر سال کا پورا بجٹ پیش کرنے پر کوئی بندش نہیں تاہم اخلاقی طور پر ہم صرف تین مہینوں کے لئے بجٹ استعمال کرنے کے لئے اختیارات دیں گے باقی انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت اسیمبلی سے منظوری حاصل کرکے باقی بجٹ استعمال کر سکے گی۔

انڈس ہائی وے پر روز بروز ہونے والے حادثات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ ایک سو تیس کلومیٹر دو رویہ سڑک کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا، عموما میں کسی اسکیم کی گراؤنڈ بریکنگ تقریب میں حصہ نہیں لیتا، تاہم وزیراعظم،، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی یقین دہانی پر میں نے اس اسکیم کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی، تاہم وفاقی حکومت کی سندھ دشمنی کے باعث اس اسکیم پر کام نہیں ہورہا اور جو بھی حادثات ہورہے ہیں اور جن خاندانوں کے پیارے حادثات میں ہلاک ہورہے ہیں اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اگرنوابشاہ سے سانگھر 62 کلومیٹر طویل سڑک چار ماہ میں تعمیر کرسکتے ہیں تو وفاقی حکومت یہ کام کیوں نہیں کرسکتی۔ ایک سوال پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایم کیو ایم کو سیاست کرنے کی کھلی اجازت ہے تاہم انہیں ماضی کی طرح دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کراچی میں ہونے والے عوامی جلسوں سے ایم کیو ایم والے خوفزدہ ہیں لیکن کراچی کی عوام اب آزاد ہے اور انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔#