افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے ،ْوزیر اعظم

وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ،ْشاہد خاقان عباسی کا تقریب سے خطاب

پیر مئی 20:24

افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے ،ْ وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ پیر کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر اہتمام بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے ۔ تقریب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، بحریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایڈمرل محمد شفیق، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی میری ٹائم افیرز ریئر ایڈمرل مختار خان نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 6 فیصد ہے تاہم سمندر تک رسائی کو مناسب طور پر بروئے کار لا کر اس میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کا شعبہ اگرچہ بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم 80 فیصد عالمی تجارت ابھی بھی بحری راستہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات کا انعقاد بہت اہم ہے کیونکہ پاکستان سی پیک پر عملدرآمد کر رہا ہے اور چین نے ایک شاہراہ ایک پٹی کے اقدام کا آغاز کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری ٹائم کا شعبہ ہر ملک کیلئے بہت اہم ہوتا ہے اور پاکستان نے پاک بحریہ اور مرچنٹ نیوی میں روایات قائم کی ہیں اور آج بھی کئی پاکستانی مرچنٹ نیوی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر تک رسائی کی فراہمی بہتر اقتصادی مواصلاتی روابط کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرہند کا علاقہ عالمی توانائی کے بہائو اور تجارت کیلئے اہم مرکز ہے کیونکہ اس علاقہ سے توانائی کا بہت زیادہ بہائو ہے، خطہ میں تجارتی حجم میں اضافہ کیلئے یہ بہت اچھا موقع ہے۔

خطہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کیلئے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں بندرگاہ سے استفادہ کیلئے سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتی ہیں، پاکستان اس وقت 1700 کلومیٹر سے زائد موٹرویز نیٹ ورک بالخصوص بلوچستان میں 1200 کلومیٹر طویل دیگر سڑکوں کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے منصوبہ جات گوادر کی بندرگاہ کیلئے معاون ہوں گے، پاکستان کو علاقائی روابط کے فروغ اور مالیاتی ہم آہنگی کیلئے چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں جس سے نہ صرف ملک میں بلکہ پورے خطہ میں اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔