ایم ایم اے بحالی بھی مذہبی قیادت میں اتفاق پیدا نہ کرسکی

جماعت اسلامی نےفاٹا انضمام کی حمایت جبکہ جےیوآئی ف نےمخالفت کردی، حکومت اپنے حلیفوں کومحمود اچکزئی اورجےیوآئی ف کومنائے تاکہ پیش رفت ہوسکے۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر مئی 19:47

ایم ایم اے بحالی بھی مذہبی قیادت میں اتفاق پیدا نہ کرسکی
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 مئی 2018ء) : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت فاٹا اصلاحات پراجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے،،جماعت اسلامی نے فاٹا انضمام کی حمایت جبکہ محمود اچکزئی اور مولانافضل الرحمن نے اپنے مئوقف پرقائم رہتے ہوئے مخالفت کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت فاٹا اصلاحات پراجلاس سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں فاٹا اصلاحات پرمشاورت کی گئی اور فاٹا اصلاحات پرحکمت عملی بنانے پرغور کیا گیا۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ، پی ٹی آئی رہنماء شاہ محمود قریشی،،اسپیکر ایازصادق ، جے یوآئی ف کے اکرم درانی ،طاہر بشیر چیمہ و دیگر شریک ہوئے۔تاہم وزیراعظم کی صدارت میں فاٹا اصلاحات پراجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

اب اجلاس جمعرات کو طلب کیا جائے گا۔

اجلا س میں جماعت اسلامی نے فاٹا انضمام کی حمایت جبکہ محمود اچکزئی اور مولانافضل الرحمن نے اپنے مئوقف پرقائم رہتے ہوئے مخالفت کردی۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے اسی اسمبلی سے فاٹا اصلاحات بل منظور کرنے کا کہا تھا۔جبکہ محمود اچکزئی اور جے یوآئی ف اپنے مئوقف پرقائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے ۔

حکومت جانے سے 24 دن پہلے حکومت کوفاٹا اصلاحات کی یاد آگئی۔آج کے اجلاس میں اپنا مئوقف کھل کر بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فاٹا اصلاحات کی حامی جبکہ جے یوآئی ف مخالفت کررہی ہے۔۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں حلیف فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کے خلاف ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے حلیفوں کومنائے تاکہ پیش رفت ہوسکے۔ دوسری جانب حکومت نے فاٹا انضمام پراتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے فاٹا اصلاحات کیلئے اجلاس کل پھر طلب کرلیا ہے۔