امریکا قابل اعتماد نہیں،امریکا کا ایک غلط فیصلہ ردعمل میں تیزی کا سبب بن سکتا ہے،جواد ظریف

غلط امریکی فیصلہ ایرانی عوام کی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوگا، امریکی اقتصادی دباوپرایرانی رد عمل سخت ہوگا،وزیر خارجہ کا انتباہ

پیر مئی 20:59

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ایرانی وزیر خارجہمحمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا قابل اعتماد نہیں،امریکا کا ایک غلط فیصلہ ردعمل میں تیزی کا سبب بن سکتا ہے، غلط امریکی فیصلہ ایرانی عوام کی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوگا، امریکہ نے مزید اقتصادی دباو ڈالا تو ایران کا رد عمل سخت ہوگا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اگر امریکہ نے غلط فیصلہ کیا تو اسے ایران کے مناسب ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر جوہری معاہدے کے حوالے سے فیصلہ کرے گا۔ان کا کہنا تھا جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کا فیصلہ ایرانی عوام کی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)

وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کے مفادات کا پورا ہونا ضروری ہے بصورت دیگر ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اگر امریکہ نے مختلف حیلوں اور بہانوں سے مزید اقتصادی دباو ڈالا تو اس صورت میں ایران کا رد عمل یقینا سخت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے امکانی فیصلے کے جواب میں ایٹمی معاہدے سے نکلنا بھی ایران کے پاس موجود آپشنوں میں سے ایک آپشن ہے۔وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران نے اب تک جوہری معاہدے کی پاسداری کی ہے تاہم امریکہ نے اس کی پابندی نہیں کی جس سے ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے تہران میں سوئیڈن کی سیکریٹری خارجہ آنیکا سودر کے ساتھ ملاقات میں جامع ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔سیدعباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کو توقع ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تمام فریق، خاص طور سے یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات انجام دیں گے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار نے کہا کہ بڑے افسوس کا بات ہے کہ عالمی سطح کی سفارت کاری کی عظیم ترین کامیابی، امریکی صدر ٹرمپ کی منہ زوری اور بد عہدی کی وجہ سے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایٹمی معاہدہ سب سے پہلے ایک سیکورٹی معاہدہ ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے خطے کے بحرانوں میں مزید شدت پیدا ہوگی -انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایٹمی معاہدے کو دوسرے معاملات سے جوڑنے کی کوششیں غلط سوچ کا نتیجہ ہیں اس سے خطے اور دنیا کی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہی--ایران اور پانچ جمع ایک گروپ نے جنوری دورہزا سولہ میں ایٹمی معاہدے پر عملدر آمد شروع کیا تھا تاہم حکومت امریکہ تاحال اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔

برطانیہ، فرانس،، روس،، چین،، امریکہ اور جرمنی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے، پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ممالک ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ کی بارہ تاریخ کو ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے میں امریکہ کے باقی رہنے یا رہنے کے بارے میں کسی فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں۔