پی ٹی آئی کشمیر کو امریکہ میں مضبوط کرنے کیلئے پارٹی کی رکنیت سازی اور تنظیم سازی کی جائے‘ بیرسٹر سلطان

پیر مئی 21:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کشمیر کو مضبوط کرنے کے لئے جہاں ہم نے آزاد کشمیر ، برطانیہ،، یورپ اور فار ایسٹ میں تنظیم سازی کا سلسلہ شروع کر کھا ہے وہاں امریکہ میں بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ پارٹی کی رکنیت سازی اور تنظیم سازی کی جائے کیونکہ امریکہ ایک اہم ملک ہے اوریہاں پر اہم اداروں کے دفاتر بھی ہیں۔

لہذا یہاں پی ٹی آئی کشمیر جتنی مضبوط ہو گی اسکے اتنے اچھے نتائج مسئلہ کشمیر پر مرتب ہونگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج یہاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کشمیر کے مرکزی سیکریٹیریٹ میں پی ٹی آئی کشمیر امریکہ کے صدر سردار عرفان تصدق اور سیکریٹیری جنرل سردار امتیاز خان سے ایک تفصیلی ملاقات میں کیا۔

(جاری ہے)

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ نیویارک میں پی ٹی آئی کشمیر کی تنظیم موجود ہے اور پی ٹی آئی کشمیر نیویارک کے صدر چوہدری ظہور اور دیگربہتر انداز میں کام کر رہے ہیں۔

جبکہ امریکہ کے باقی علاقوں میں بھی پارٹی کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ ہم مانیں یا نہ مانیں جب تک امریکہ نہیں چاہے گا مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یورپ بھی امریکہ کی طرف دیکھتا ہے۔ اسی لئے میں سال میں تین چار مرتبہ یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ کا بھی دورہء کرتا ہوں۔ وہاں کی وزارت خارجہ اور دیگر فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ بھارت جسطرح سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور سیئز فائر لائن کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اس پرانٹرنیشنل کمیونٹی بالخصوص امریکہ کی توجہ مرکوز کرانے کے لئے پی ٹی آئی کشمیر کو مضبوط کیا جائے اور ایک لابی بنائیں جو کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرسکے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کشمیر کے سیکریٹری جنرل سردار امتیاز خان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ملاقات کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کشمیر امریکہ کے صدر سردار عرفان تصدق کچھ روز بعد امریکہ روانہ ہونگے ۔

اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی جو بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے قبول کرلی اور کہا کہ وہ عید کے بعد امریکہ کا دورہء کریں گے۔***