ایران کو سبق سکھانے میں تاخیر نہ کی جائے،اسرائیل

ایرانی جارحیت کو بہر صورت روکا جائیگا،ایران پر چڑھائی نہیں چاہتے لیکن کسی بھی منظر نامے کے لئے تیار ہیں، نیتن یاہو

پیر مئی 21:36

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کو سبق سکھانے میں تاخیر نہ کی جائے،،اسرائیل ایرانی جارحیت کو بہر صورت روکے گا چاہے تنازع میں داخل ہونا پڑے،،اسرائیل ایران پر چڑھائی نہیں چاہتا لیکن کسی بھی منظر نامے کے لئے تیار ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران شام کو جدید ہتھیار فراہم کر رہا ہے جو اسرائیل کے لیے خطرہ ہے لہذا بہتر ہے کہ ایران کا مقابلہ بعد میں کرنے کے بجائے جلد کر لیا جائے۔

اتوار کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "ہم ایرانی جارحیت کو روکنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں خواہ اس کے لیے کسی تنازع میں داخل ہونا پڑے۔

(جاری ہے)

آج کل سے بہتر ہے۔ ہم چڑھائی نہیں چاہتے مگر کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں"۔۔اسرائیل بارہا خبردار کر چکا ہے کہ وہ پڑوسی ملک شام میں ایران کے مستقل عسکری وجود کو کسی طور درگزر نہیں کرے گا۔

ایران شامی حکومت کے صدر بشار الاسد کا مرکزی حلیف ہے اور اس نے بشار کی فوج کے لیے فیصلہ کن عسکری امداد اور کمک پیش کی۔نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ان کا ملک 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے دست بردار ہو جائے یا نہیں۔یاد رہے کہ نیتن یاہو اس سمجھوتے کے سخت ترین مخالفین میں سے تھے جس کی رٴْو سے ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کے عوض تہران کا یورینیم کی افزودگی پر روک لگانا لازم قرار دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے بنیامین نیتن یاہو نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کو حاصل ہونے والی "نصف ٹن" دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے اپنی سابقہ کوششوں کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ ایران نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تاہم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حاصل شدہ دستاویزات یہ ثابت کرتی ہیں کہ تہران کا اعتبار کرنا ممکن نہیں۔