احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اہم پیش رفت

وزیر داخلہ پر ناروال میں ہوئے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں تبدیلی کر دی گئی ہے

muhammad ali محمد علی پیر مئی 20:11

احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اہم پیش رفت
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 مئی 2018ء) احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر ان کے آبائی حلقے ناروال میں ہوئے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیر داخلہ احسن اقبال پر ایک جلسہ کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔

احسن اقبال پر حملہ کرنے والے ملزم عابد حسین کو حملے کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جبکہ پیر کے روز ملزم عابد حسین کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوسری جانب احسن اقبال پر حملہ کے واقع پر پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی 5 افراد پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)

 تشکیل دی گئی 5 رکنی جے آئی ٹی میں پیر کے روز تبدیلی کرتے ہوئے ٹیم کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر کو مقرر کر دیا گیا۔

جے آئی ٹی میں آئی بی اور آئی ایس آئی کا بھی ایک ایک نمائیندہ شامل ہے۔جے آئی ٹی میں ایس ایس پی آر بی آئی گوجرانوالہ خالد بشیر چیمہ،ایس پی سی ٹی ڈی گوجرانوالہ ریجن فیصل گلزارا عوان بھی شامل ہیں۔جے آئی ٹی نے مخلتف پہلوؤں سے مقدمے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال شکرگڑھ کی تحصیل کنجرورمیں عوامی جلسے سے خطاب کے بعدواپس جارہے تھے کہ ان پرنامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی۔

حملے کے فوری بعد احسن اقبال کے کزن عمران نے بتایا کہ احسن اقبال کے بازو پرگولی لگی ہے۔جس سے احسن اقبال شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم احسن اقبال کوہسپتال منتقل کیا گیااور احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔اور خیریت سے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق ملزم نے احسن اقبال پردو فائر کیے جس میں ایک گولی احسن اقبال کے دائیں بازور پرلگی ہے۔ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے،اور جائے وقوعہ کامعائنہ کیاکہ فائرنگ کس طرف سے کی گئی ہے۔ ملزمان کہاں سے آئے اور کتنے افراد تھے ۔ تاہم اسی اثناں میں جلسے کے شرکاء نے ملزم کوپکڑ کرپولیس کے حوالے کردیا۔ شرکاء کی جانب سے ملزم کو پولیس کے حوالے کرنے سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔