جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت جبری لاپتہ افراد کے تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس

پیر مئی 22:16

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) جبری لاپتہ افراد کے تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے قیام کے وقت سی30 اپریل 2018ء تک مبینہ طور پر جبری لاپتہ افراد کے کیسز پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیشن کی کوششوں کی وجہ سے 4929 کیسز میں سے 3269 نمٹا دیئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اپریل 2018ء کے دوران 50 کیسز نمٹائے گئے جبکہ 1822 کیسز باقی ہیں۔ انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے اس حوالے سے اسلام آباد میں 237 اور کراچی میں 168 کیسز کی سماعت کی۔ ماہ اپریل 2018ء کے دوران مجموعی طور پر 405 کیسز کی سماعت کی گئی۔ انکوائری کمیشن نے چار ہزار پاکستانیوں کو غیر ممالک کے حوالے کرنے کے معاملہ کی دو ٹوک انداز میں تردید کی۔ کمیشن کے چیئرمین نے 2007ء میں میڈیا کے ایک حصے میں اس حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

متعلقہ عنوان :