بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، ہم نے دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے جبکہ انتہاء پسندی کے رجحان پر قابو پانے کی ضرورت ہے، وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں اس سے تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے‘ ڈاکٹر فاروق ستار

پیر مئی 22:16

بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، ہم نے دہشت گردی پر قابو پا لیا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، ہم نے دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے جبکہ انتہاء پسندی کے رجحان پر قابو پانے کی ضرورت ہے، وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں اس سے تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے، اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہوتا تو اس طرح کے واقعات نہ ہوتے۔

پیر کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملہ کو جواز بنا کر اس طرح کے حملے نہیں کئے جا سکتے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، علماء حق اور اسلامی نظریاتی کونسل کو اس معاملہ پر قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے، تمام سیاسی جماعتوں نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا تھا، حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر عملدرآمد کے حوالہ سے پارلیمان کی کمیٹی تشکیل دیتی جو اس کو مانیٹر کرتی مگر ایسا نہیں ہو سکا، نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کسی حد تک تو ہو گیا مگر انتہاء پسندی پر قابو پانی کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ پر حملہ معمولی بات نہیں اس سے ہماری تشویش بڑھی ہے، حملہ کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے، اس کے محرک کو فی الفور بے نقاب ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں دو سیاسی جماعتوں کو الیکشن مہم نہ چلانے اور جلسے جلوس کرنے کے حوالہ سے دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے پاکستان اور بھارت مستقل رکن بنے ہیں، بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، وہ کسی فورم کو بھی ہمارے خلاف استعمال کر سکتا ہے، پاکستان کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مفادات کو سفارتکاری کے ذریعے مضبوط بنائیں، ہمیں مغرب کی طرف دیکھنے کی بجائے چین،، ایران،، روس سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں، وہ امریکہ کی طرف دوستی بڑھا رہا ہے جس سے روس کی بھی بھارت کے ساتھ دلچسپی کم ہوئی ہے۔