ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے مختلف پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری

پیر مئی 22:37

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے مختلف پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے‘ اس ضمن میں ریلوے ٹریکس کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ٹریکس کو دو رویہ بھی کیا جا رہا ہے جس سے ٹرینوں کی نقل وحمل میں بہتری آئے گی اور حادثات میں کمی آئے گی۔ ذرائع کے مطابق ٹریکس پر نئے سلیپرز بچھائے جا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ٹریکس کو دو رویہ کرنے کے منصوبے پر مرحلہ وار کام کیا جا رہا ہے اور رواں سال بھی اس سلسلہ میں بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے۔

سٹیشنوں کی تزئین و آرائش کے علاوہ بعض مقامات پر نئی عمارتیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں۔ ننکانہ صاحب، حسن ابدال، بہاولپور، رائے ونڈ،، اوکاڑہ اور ساہیوال کے ریلوے سٹیشنوں کی تعمیرنو کی جارہی ہے جبکہ روہڑی، سبی اور ہرنائی کے ریلوے سٹیشن بھی اپ گریڈ کئے جا رہے ہیں اور کراچی کینٹ کے ریلوے سٹیشن کو بھی مزید بہتر بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان ریلویز کی طرف سے کوہاٹ پنڈی سیکشن کی بحالی پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ دریں اثناء ٹرینوں کی اپ گریڈیشن بھی کی جا رہی ہے۔ عوام ایکسپریس کی اپ گریڈیشن کی جارہی ہے جس کے تحت عوام ایکسپریس کی بوگیوں کو نیا بنایا جا رہا ہے۔ اگلے ایک سے دو برسوں کے دوران تمام گاڑیوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ اگلے دو برسوں میں مزید 475 کوچز کو اپ گریڈ کر لیا جائے گا۔ ریلوے کراسنگ لیولز کی بھی حالت بہتر بنائی جارہی ہے۔جبکہ سگنل نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ پلوں کی مرمت و بحالی کا کام کیا جا رہا ہے اور ٹریکس کی مرمت بھی کی جا رہی ہے۔ ریلوے ریزرویشن آفیسز کی بھی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔