شاعر نوید ملک کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایک شام منعقد

پیر مئی 22:37

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) آرٹس کونسل اور بین الاقوامی ادبی تنظیم’’عالمی ادب اکادمی‘‘ کے زیرِ اہتمام نظم اور غزل کے عمدہ لہجے کے شاعر نوید ملک کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایک شام منعقد ہوئی جس میں راولپنڈی اسلام آباد کے علاوہ ملک بھر سے عمدہ لہجے کے نوجوان اور سینیر شعرا نے شرکت کی اور اپنا کلام بھی پیش کیا ۔

صدارت ممتاز شاعر، ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی (ر) طاہر حنفی نے فرمائی جبکہ پروفیسر حبیب گوہر، جنید آزر، نور مستی خیل، شہناز مزمل اور راحت سرحدی مہمانانِ خصوصی تھے۔معروف شاعر وفا چشتی نے تلاوت کے بعد ترنم کے ساتھ نعت پیش کی۔عمدہ لہجے کے شاعر قیوم طاہر نے عالمی ادب اکادمی کے سرپرست عرفان خانی کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کے نوید ملک جیسے نوجوان شاعر سے ہمیں بہت سی توقعات ہیں۔

(جاری ہے)

نوید ملک نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عرفان خانی نے اندھیرے میں ضیا ء بانٹے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے آج کا پروگرام اسی کی ایک کڑی ہے۔صاحبِ صدارت نے صدارتی کلمات میں کہا کہ نوید ملک کا شمار ان نوجوانوں میں ہوتا ہے جن کا کلام پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ انہوں نے کم وقت میں محنت کر کے ادبی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔