کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے وفاقی بجٹ میں اڑھائی ارب روپے مختص کئے ہیں،سکندر حیات بوسن

پیر مئی 22:39

کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے وفاقی بجٹ میں اڑھائی ارب روپے مختص کئے ..
ملتان۔07مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان میں ایک روزہ سیمینار برائی- "کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی"" منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے وزارت تحفظ خوراک و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ حکومت ملک میں زراعت کو فروغ دینے اور کسانوں کو ہر ممکنہ سہولیات پہچانے میں دن رات کوشاںہے اور حکومت نے ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے وفاقی بجٹ میں اڑھائی ارب روپے مختص کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کاشتکاروں کا اہم مسئلہ بیج کی دستیابی ہے اور تحقاتی ادارے اس مسئلہ کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، حکومت نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے کاشت سے لے کر چنائی تک سو ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور ملک میں گزشتہ سال کی نسبت اس سال کپاس کی زیادہ پیداوار رہی جبکہ پھٹی کی قیمتیں بھی بہترر ہیں جو کہ کسان حضرات کے لیے خوش آئند بات ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کاشتکارکی خوشحالی حکومت کی ترجیح ہے۔کاشتکارموسم کی تبدیلی سے شدید متاثرہوئے ہیں اوران کی محنت بعض اوقات موسم کی خرابی کی نذرہوجاتی ہے ۔اس کے تدارک کیلیے بھی حکومتی سطح پرآگاہی دینے اور دیگر کام بھی ہورہاہے۔کاٹن کمشنر و وائس پریزیڈنٹ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحقیقاتی اداروں کی کپاس کے میدان میں کاوشوں کی بدولت ا س سال گزشتہ سال کی نسبت کپاس کی 3ملین زیادہ گھانٹھیں رہیں انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کپاس کے وفاقی تحقیقاتی ادارے صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے کاشتکاروں کی رہنمائی و تربیت کے لیے پوراا سیزن خصوصی ٹریننگ پروگرام کا سلسلہ جاری رکھے گی جس سے خوشحال کسان اور خوشحال پاکستان کے خواب کی تکمیل ممکن ہو سکے گی۔

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان کے ڈائریکٹر داکٹر زاہد محمود نے سیمینار کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ سی سی آر آئی ملتان کے زرعی سائنسدان بدلتے موسمی حالات اور کیڑے مکوڑوں سے بچائو کے لیے کپاس کی نئی اقسام کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ ادارہ ہذا میں کپاس کی سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے تدارک کے لیے لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جہاں ان کیڑوں پر تحقیق کا عمل جاری ہے اور تحقیقاتی نتائج سے کاشتکاروں کو کافی فائدہ ہوگا۔

ادراہ ہذا کے مقررین زرعی سائنسدانوں ڈاکٹر فیاض احمد ، ڈاکٹر ادریس خان ،،ڈاکٹر محمد نوید افضل ،مس صباحت حسین ،،ڈاکٹر رابعہ سعید نے سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے زمین کی صحت اور غذائی اجزاء کا کپاس کی پیداوار پر اثر ، کپاس کی کاشت اور نگہداشت، کپاس کی اچھی پیداوار کے لیے کپاس کی اقسام کا انتخاب، کپاس کے کیڑے مکوڑوں کا تدارک، کپاس کی بیماریوں سے بچائو کے لیے حکمت عملی سے متعلق جدید ٹیکنالوجی بارے اظہار خیال کیا ۔

اس کے علاوہ ترقی پسند کاشتکار صدر انجمن کاشتکاران رانا افتخار احمد اور میلسی سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند کاشتکار نورالحق جھنڈیر نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔سیمینار میں زرعی سائنسدانوں، پرائیویٹ سیکٹر کے افسران، مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے پروفیسرصاحبان ، اور کاشتکاروں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔